وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب قومی سلامتی پالیسی 25 ارب کے سیکیورٹی پلان کی منظوری کا امکان

وزیراعظم ہائوس میں3حفاظتی حصارقائم،سیکریٹریٹ کی سیکیورٹی اپ گریڈکی جائیگی


Irshad Ansari January 20, 2014
اسلام آباد کے ہائی سیکیورٹی زون کے گردباڑھ نصب،وزیراعظم ہائوس میں3حفاظتی حصارقائم،سیکریٹریٹ کی سیکیورٹی اپ گریڈکی جائیگی. فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف نے ملک کی داخلی سلامتی کے بارے میں قومی پالیسی اور 25 ارب روپے سے زائد مالیت کے سیکیورٹی پلان کی منظوری دینے کا جائزہ لینے کیلیے آج ( پیر کو) فاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں قومی سیکیورٹی پالیسی کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں وزارت داخلہ کی طرف سے ملک میں امن وامان کی صورتحال خصوصاً کراچی آپریشن کی حوالے سے بریفنگ دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ طالبان کیساتھ مذاکرات کے عمل پر پیشرفت اور توانائی و معشیت کی صورتحال کا بھی جائزہ کیا جائیگا۔ نئی سلامتی پالیسی کے تحت مرتب کیے جانیوالے سیکیورٹی پلان پر مجموعی طور پر 25 ارب روپے لاگت آئے گی ۔ اس پلان کے تحت وفاقی دارالحکومت کے ہائی سیکیورٹی زون سمیت اسلام آباد اور راولپنڈی کیلیے مجموعی طور پر 10 ارب 76کروڑ57 لاکھ 58ہزار روپے مالیت کے 4 اہم منصوبے شروع کیے جائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق ایوان صدر، پارلیمنٹ ہائوس، وزیراعظم سیکریٹریٹ، وزیراعظم ہائوس، سپریم کورٹ بلڈنگ، پاک سیکریٹریٹ بلاکس اور ڈپلومیٹک انکلیو پر مشتمل ہائی سکیورٹی زون کی حفاظت کیلئے 21 کروڑ 98 لاکھ 75 ہزار روپے مالیت کا منصوبہ شروع کیا جائیگا جو کہ چار ماہ میں مکمل ہوگا۔

اس منصوبے کے تحت ہائی سکیورٹی زون کے ارد گرد حفاظتی باڑ لگائی جائے گی ، یہ باڑ اس طریقے سے لگائی جائے گی کہ اس سے وفاقی دارلحکومت کی خوبصورتی متاثر نہ ہو ۔ حکام کے مطابق حفاظتی باڑ کیساتھ ساتھ خودکار سلائیڈنگ گیٹ ، الیکٹرونکس واک تھرو گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے جائیں گے جبکہ سینسز اور ڈراپ ڈائون بیریئر بھی لگائے جائیں گے ۔ حکام کے مطابق پاک سیکرٹریٹ بلاکس کی سیکیورٹی کو مزید بہتر کرنے کیلیے ایک کروڑ 55 لاکھ روپے مالیت کا دوسرا منصوبہ شروع کیا جائیگا جو 3 ماہ میں مکمل ہوگا ، اس میں پاک سیکریٹریٹ میں ڈیلٹا بیریئرز اور واک تھرو گیٹس نصب کئے جائیں گے ، اس کے علاوہ سکیورٹی حکام کودھماکہ خیز مواد کی نشاہندی کیلئے جدید نوعیت کے میٹل ڈیٹیکٹرزبھی فراہم کئے جائیں گے ۔ حکام کے مطابق سیکورٹی پلان کے تحت وزیراعظم ہائوس کی سکیورٹی کیلئے ایک کروڑ 46 لاکھ 54 ہزار روپے مالیت کا تیسرا منصوبہ شروع کیا جائیگا جس کے تحت وزیراعظم ہائوس میں اندرونی،درمیانی اور بیرونی حصار قائم کیے جائیں گے ۔

 photo 2_zps55b6fd65.jpg

ذرائع کے مطابق سیف سٹی پروجیکٹ کے نام سے اسلام آباد اور راولپنڈی کیلیے 10ارب 51 کروڑ 56 لاکھ 91 ہزار روپے کا چوتھا منصوبہ شروع کیا جائیگا ، یہ منصوبہ دو سال کے عرصہ میں آپریشنل ہوگا ۔ ذرائع کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت وفاقی دارالحکومت کے بیرونی زون بشمول راولپنڈی کو سیکیورٹی کور فراہم کیا جائیگا اور 55 انتہائی محفوظ انٹری پوائنٹس قائم کیے جائیں گے ۔ علاوہ ازیں پورے شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت گاڑیوں پرریڈیو فریکوینسی شناخت کے سٹیکرز لگائے جائیں گے ، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا سراغ لگانے کیلئے وہیکل ٹریکنگ سسٹم متعارف کروایا جائیگا جبکہ تیز ترین ریسپانس نیٹ ورک بھی قائم کیا جائیگا ۔

سرکاری دستاویز کے مطابق سیکیورٹی پلان کے کامیاب نتائج کیلیے سیکیورٹی حکام کو جدید ٹریننگ دی جائے گی اور اس مقصد کیلیئے پولیس کے 450 سابق ملازمین کو بھرتی کیا جائیگا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت 111اے ایس آئیز اور 400 کانسٹیبل بھرتی کیے جائیں گے جنہیں جدید تکنیک اور رسک مینجمنٹ کے علاوہ الیکٹرونک سیکورٹی آلات کے استعمال کی خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی سیکریٹریز کی کمیٹی ان 4 منصوبوں کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے اور عملدرآمد کیلیے منصوبہ بندی کمیشن اور وزارت خزانہ کو ہدایات جاری کی گئی تھیں ۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ہائی سیکیورٹی زون کے علاوہ بھی وزارتوں اور ڈویژنوں کی عمارتوں اور دفاتر کو سیکیورٹی پلان میں میں شامل کیا جائے اور ملازمین کو محفوظ ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے ، کمیٹی نے راولپنڈی میں واقع وزارت دفاع اور دفاعی پیداوار کے دفاتر کے ارد گرد بھی باڑ لگانے کی سفارش کی ہے۔