کرپٹو کرنسی دھوکا یا حقیقت!!!

سید بابر علی  اتوار 27 جون 2021
غیرمرئی کرنسی کے بلندیاں سر کرنے سے پستیوں میں گرنے تک کے سفر کی کہانی۔ فوٹو: فائل

غیرمرئی کرنسی کے بلندیاں سر کرنے سے پستیوں میں گرنے تک کے سفر کی کہانی۔ فوٹو: فائل

آج کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کے نام سے تو ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے بیش تر لوگ واقف ہیں، لیکن دنیا بھر کے مالیاتی نظام کو چیلینج کرنے والی اس کرنسی کے پیچھے کارفرما اس پیچیدہ نظام ’بلاک چین‘ سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں، جس کے مرہون منت ہی بٹ کوائن اور دیگر کرپٹوکرنسی کو تحفظ، استحکام اور وسعت میں اضافہ بلاک چین کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔

عام لوگ تو درکنار، کرپٹو کرنسی کے لین دین سے وابستہ افراد کی اکثریت بھی اس لامحدود ٹیکنالوجی ’بلاک چین‘ کو کرپٹو کرنسی کا ایک حصہ سمجھتی ہے، جب کہ کرپٹو کرنسی بلاک چین سسٹم کی محض ایک ایپلی کیشن ہے۔

کرپٹو کرنسی کو متبادل یا غیرمرئی کرنسی بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں متعارف کرائی گئی پہلی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن تھی۔ اس کے بعد بہت سی کرپٹوکرنسیز مارکیٹ میں آئیں، جن کی قیمتوں میں پچھلے دو تین سال میں بہت تیزی آئی ہے اور ان کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد مختصر عرصے میں ارب پتی، کھرب پتی بن چکے ہیں۔ کرپٹو کرنسی میں متعارف ہونے والا پہلا کوائن، بٹ کوائن رواں سال اپنی انتہائی بلند قیمت 63 ہزار ڈالر (98 لاکھ پاکستانی سے زائد) سے بھی اوپر جاچکا ہے۔

بٹ کوائن کی قدر میں تیزی سے ہوتے اضافے کے بعد دنیا بھر میں بہت سی کرپٹو کرنسی متعارف کرائی گئیں، اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 5 ہزار 300 سے زاید کرپٹو کرنسیز گردش میں ہیں، جن میں ہر ایک کی مالیت الگ الگ ہے۔ کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔

جہاں ایک طرف منشیات فروشی، غیرقانونی اسلحے کی تجارت، جوئے کے دھندے میں ملوث اور منی لانڈرنگ کرنے والے افراد کے لیے ڈیجیٹل کرنسی بہت قابلِ اعتماد سمجھی جا رہی ہے تو دوسری طرف کرپٹو کرنسی کے لین دین میں انفرادی اور کاروباری سطح پر تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

کرپٹوکرنسی میں سب سے مقبول بٹ کوائن کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور روزانہ کروڑوں ڈالر مالیت کے بٹ کوائنز کی خریدوفروخت کی جاتی ہے۔ کرپٹوکرنسی کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ کوئی بھی اس کا مالک نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کے پس منظر میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی کی ملکیت کا دعوے دار ہے۔

کرپٹو کرنسی کو دنیا بھر میں موجود اس کے استعمال کنندہ ہی کنٹرول کرتے ہیں، ڈویلپرز اس سافٹ ویئر کو مزید بہتر تو بنا سکتے ہیں، لیکن وہ اس کرنسی کے پروٹوکول میں تبدیلی نہیں کرسکتے، کیوں کہ ہر استعمال کنندہ کو اپنی مرضی کا سافٹ ویئر اور ورژن استعمال کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ ایک دوسرے سے مطابقت رکھنے کے لیے تمام استعمال کنندگان کو ایک جیسے اصول پر پورا اترنے والے سافٹ ویئر استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کرپٹو کرنسی اسی صورت میں صحیح کام کرتی ہے جب تمام استعمال کنندگان کے درمیان مکمل مطابقت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمام استعمال کنندہ اور ڈویلپرز اس مطابقت کو تحفظ دینے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔

طاقت ور کمپیوٹرز، ریاضیاتی کُلیوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مشترکہ کاوشوں سے وجود میں آنے والی اس ٹیکنالوجی کو دنیا میں متعارف کروانے کا سہرا ستوشی ناکاموتو کے سر جاتا ہے۔ 1998میں پہلی بار ’’Wei Dai‘‘ نے اپنیcypherpunks (ایسا فرد جو کمپیوٹر نیٹ ورک پر اپنی پرائیویسی کو خصوصاً حکومتی اتھارٹیز کی دسترس سے دور رکھتے ہوئے رسائی حاصل کرے) میلنگ لسٹ میں وضع کیا، جس میں اس نے پیسوں کو ایک ایسی نئی شکل میں ڈھالنے کی تجویز پیش کی، جس کی تشکیل اور منتقلی مرکزی حکام کے بجائے cryptography  (رمزنویسی، فنِ تحریر یا خفیہ کوڈز کو حل کرنا) کے طریقہ کار پر مشتمل ہو۔ اس کے کچھ عرصے بعد ایک امریکی رمز نویس نک سابو نے بٹ گولڈ کے نام سے ایک کرنسی تخلیق کی۔ یہ ایک برقی کرنسی کا نظام تھا۔

دنیا کی پہلی ڈی سینٹرلائزڈ کرپٹو کرنسی کو ایک ڈیولپر ستوشی ناکاموتو نے تخلیق کیا تھا۔ اگست 2008 میں ایک ڈومین (ویب سائٹ کا نام)‘‘bitcoin.org’’کے نام سے رجسٹرڈ کیا گیا۔ اسی سال 31 اکتوبر کو ساتوشی نے کرپٹوگرافی کی میلنگ لسٹ میں ایک وائٹ پیپر ’بٹ کوائن: اے پیر ٹو پیر الیکٹرانک کیش سسٹم‘ کے نام سے جاری کیا۔ پہلے بٹ کوائن کی تفصیلات اور اس کے حق میں دلائل تین جنوری 2009 میں ستوشی ناکاموٹو کی cryptography میلنگ لسٹ میں شایع ہوئے۔

2010 کے اواخر میں ستوشی نے مزید تفصیلات کا انکشاف کیے بنا اس پروجیکٹ کو چھوڑ دیا، لیکن اس کی ای میل فہرست میں شامل کئی ڈویلپرز نے بٹ کوائن پروجیکٹ پر کام شروع کردیا۔ ستوشی کی گم نامی نے کئی افراد میں بلاجواز تحفظات پیدا کردیے اور ان میں سے متعدد کا تعلق بٹ کوائن کی ’’اوپن سورس‘‘ ساخت کے حوالے سے غلط فہمیوں سے تھا۔ اب بٹ کوائن پروٹوکول اور سافٹ ویئر سب کے سامنے شایع ہوچکا ہے اور دنیا کا کوئی بھی ڈویلپر اس کوڈ کا جائزہ اور اپنا ترمیم شدہ بٹ کوائن سافٹ ویئر کا نیا ورژن بالکل اسی طرح بناسکتا ہے، جیسے موجودہ ڈویلپرز۔ ستوشی کا اثر ان تبدیلیوں پر بہت محدود تھا، جنہیں دوسروں نے حاصل کرلیا اور ستوشی اسے کنٹرول نہیں کرسکا۔

لٹ کوائن، ایتھریم اور بٹ کوائن آن لائن بینکنگ نیٹ ورکس اور کریڈٹ کارڈ ز کی طرح ورچوئل ہے۔ انہیں کرنسی کی دوسری اقسام کی طرح آن لائن شاپنگ اور فزیکل اسٹورز پر خریداری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جب کہ اسے کرپٹو کرنسی کے ایکسچینجر تبدیل کروا کر کاغذی کرنسی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

٭ کرپٹوکرنسی کی قانون سازی میں مشکلات!

کرپٹو کرنسی کسی مرکزی بینک، مالیاتی ادارے یا کسی ٹیکنالوجی کمپنی کی ایجاد نہیں، نہ ہی انہوں نے اس کو ایجاد کیا اور نہ ہی وہ اس کو چلاتے ہیں۔ ڈالر امریکی حکومت کی کرنسی ہے، پاؤنڈ برطانوی حکومت کی کرنسی ہے، لیکن بٹ کوائن یا دیگر کرپٹوکرنسی سرحدوں سے آزاد دنیا کے تمام لوگوں کی ایک یونیورسل کرنسی ہے۔ کرپٹو کرنسی کو نہ ہی ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بند کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ اس کو چلانے والے نہ ہی کسی ملک یا سرکاری ادارے کے ہیں اور نہ ہی یہ کسی ٹیکنالوجی کی کمپنی پراڈکٹ ہے۔ اگر بٹ کوائن کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو 2009 میں اپنی لانچنگ کے وقت اس کی تعداد شاید 10نوڈز بھی نہیں تھی اور آج ان کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔

یہ اعدادوشمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ گذشتہ گیارہ سال میں اسے غیرقانونی قرار دے کر روکا گیا، لیکن یہ پھر بھی تیزی سے پھیلی ہے اور اگر بٹ کوائن اور امریکی ڈالر کی قدر کا جائزہ لیا جائے تو آج بٹ کوائن کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں کئی سو گنا زائد ہے۔

کرپٹو کرنسی جیسی ٹیکنالوجیز معاشرے میں اس وقت آتی ہیں جب پہلے سے موجود سسٹم میں کوئی خامی موجود ہو اور ایجاد کرنے والے اس کا ایک حل تجویز کریں۔ 2009ء سے پہلے دنیا میں نہ ہی کوئی ستوشی ناکا موتو کے نام سے واقف تھا اور نہ ہی کسی کے وہم وگمان میں تھا کہ بٹ کوائن کے نام سے بننے والی کرنسی دنیا کے مالیاتی نظام میں داخل ہوگی۔ بلاک چین ٹیکنالوجی تین پلرز، ڈی سینٹرالائزڈ (اقتدارِ مرکزیت نہ ہونا)، ٹرانسپیرینسی (شفافیت) اور امیوٹیبلیٹی (تغیرناپذیری) پر قائم ہے، کسی بھی بینک کاری یا مالیاتی ادارے کے نظام میں ان تینوں پلرزکو نہایت اہمیت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود بلاک چین کی ایک ایپلی کیشن ’کرپٹو کرنسی‘ کو اب تک قانونی شکل نہ دینے کی بہت سی وجوہات ہیں۔

دنیا میں لیکن اس ٹیکنالوجی کو براہ راست مالیاتی لین دین اور معیشت سے مربوط کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ دنیا بھر میں معاشی اور زری پالیسی بنانے والے مختلف مالیاتی ادارے اور مرکزی بینکس نہ ہی کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دیتے ہیں اور نہ ہی اس ٹیکنالوجی کی افادیت سے انکار کرتے ہیں۔ ’تیکنیکی لحاظ سے بٹ کوائن یا دیگر کرپٹو کرنسیاں بہت ہی موثر ہیں، لیکن اس کرنسی کو قانونی شکل دینے میں جو ریگولیٹری مسائل ہیں وہ آنے والے وقت میں بھی رہیں گے۔

حال ہی میں وسطی امریکا کا ملک ایل سلواڈور کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اور حکومت کی جانب سے رواں ماہ ہی بٹ کوائن کو قانونی شکل دینے کا قانون پاس کردیا گیا ہے۔ ایل سلواڈور کی حکم راں جماعت نے اسی ماہ ملک میں کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ قانون سازی کے بعد 90 دنوں میں امریکی ڈالر کے ساتھ ساتھ بٹ کوائن کو بھی ایل سلوا ڈور کی قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے گا۔ اس نئے قانون کے تحت ہر کاروبار کے لیے چیزوں اور خدمات کے لین دین کے لیے بٹ کوائن قبول کرنا لازمی ہوگا۔

ایل سلوا ڈور کے اس فیصلے کو کچھ قانونی مبصرین اور مالیاتی اداروں نے سراہا تو کچھ نے کرپٹو کرنسی کے غیر محفوظ ہونے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایل سلوا ڈور کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آ ئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی مدد سے ایل سلواڈور میں1 ارب ڈالر سے زائد کے پروگرام چل رہے ہیں۔

ایل سلوا ڈور نے بٹ کوائن کو قانونی شکل دینے کا فیصلہ اس وقت کیا ہے جب دنیا بھر کے ماہرین معیشت دو گروپوں میں منقسم ہیں، ایک کے خیال میں کرپٹو کرنسی کا مستقبل بہت شان دار ہے تو دوسری رائے یہی ہے کہ یہ کرنسی محض ایک دھوکے اور جوئے سے زیادہ کچھ بھی نہیں اور امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حال ہی میں بٹ کوائن کو ڈالر کے خلاف دھوکا قرار دے چکے ہیں، جو کہ کسی حد تک سچ بھی دکھائی دیتا ہے کیوں کہ آسمان کی بلندیوں پر پہنچے والی کرپٹو کرنسی قیمتوں میں گذشتہ ماہ کے وسط سے تیزی سے کمی ہورہی ہے اور اب تک یہ مستحکم نہیں ہوسکی ہے۔

ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کے بہت سارے عوامل ہیں جیسے کہ چین میں کرپٹوکرنسی کی مائننگ کے خلاف ہونے والا کریک ڈاؤن، جس میں چین نے بینکس اور رقوم کا لین دین کرنے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی تھی کہ کرپٹوکرنسی کی ٹرانزیکشنز سے متعلق خدمات دینا بند کردیں۔ اسی طرح برقی کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کی جانب سے ٹیسلا کی خریداری کے لیے بٹ کوائن وصول نہ کرنے جیسے عوامل ہیں۔ حال ہی میں سیکیوریٹیز ایکسچینج کمیشن امریکا نے بٹ کوائن کو سٹہ قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا ہے کہ و ہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے ممکنہ حد تک گریز کریں۔ ایس ای سی پی امریکا نے یہ وارننگ اس وقت جاری کی ہے جب مورگن اسٹینلے کے ہائی پروفائل فنڈز کیش سیٹلڈ بٹ کوائن اور گر اسکیلز ٹرسٹ کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی جانب جانا شروع کیا ہے۔

 ٭کیا کرپٹو کرنسی واقعی دیگر کرنسیوں کے لیے خطرہ ہے؟

مالیاتی خدمات فراہم برطانوی کمپنیسیون انویسٹمنٹ مینیجمنٹ کے شریک بانی جسٹن ارکیوہرٹ اسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی خصوصاً ’بٹ کوائن تمام بڑی کرنسیوں کے لیے خطرہ ہے‘ ان کے خیال میں بٹ کوائن سے فزیکل کرنسیوں کو غیرمستحکم کرنے کا ممکنہ خطرہ ہے، کیوں کہ یہ کسی مقبول مالیاتی قوت کے بنا بہت مقبول ہوچکی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بٹ کوائن کی قدر کو آسمان پر پہنچانے میں ایلون مسک پر جیسے لوگوں کا ہاتھ ہے جن کے احمقانہ طرزعمل نے عام لوگوں کے ذہن میں کرپٹوکرنسی کو ایک قابل اعتبار تصور بنا دیا ہے۔

بٹ کوائن بہت خطرناک ہے کیوں کہ اس کی ساکھ کو غیرمعتبر طریقے سے بڑھا یا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی تھوڑی بہت سمجھ رکھنے والے نوجوانوں میں کرپٹو کرنسی کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ اس غیرمتغیر کرنسی کی صورت میں بہت زیادہ خطرات مول لے رہے ہیں، کیوں کہ انہوں نے فنانس کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کو اب نصاب کا حصہ بنانا چاہیے کہ خاندانی پیسے کو کیسے اگلی نسلوں کو منتقل کیا جائے۔ اب ہمارے پاس ’سٹے بازوں‘ کی جوان نسل ہے جن کے پاس مالیاتی منصوبہ بندی اور ڈیولپمنٹ کی کوئی معلومات نہیں ہے ’یہ نوجوان چیزوں کی خریدوفروخت تو سمجھتے ہیں، لیکن انہیں اس بات کا کوئی آئیڈیا نہیں ہے کہ طویل المدتی دولت کیسے بنائی جاتی ہے۔

٭  بٹ کوائن کرنسی نہیں ہے!

فاریکس، کموڈیٹیز اور حصص کی ٹریڈنگ کرنے والی گلوبل کمپنی مارکیٹ ڈاٹ کام کے چیف مارکیٹ اینالسٹ نیل ولسن سمجھتے ہیں کہ بٹ کوائن یقیناً ایک کرنسی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرنسی کی تعریف پر پورا اترنے کے لیے درج ذیل افعال کا ہونا ضروری ہے۔

  • اکاؤنٹ کا یونٹ ہونا
  • بہترین اسٹور ویلیو فراہم کرتی ہو
  • ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتی ہو

اور اسی بنا پر میں بٹ کوائن کو کرنسی کے بجائے حصص اور بانڈ جیسی سیکورٹی کا ہی نام دوں گا۔

نیل ولسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ بٹ کوائن کو بڑے پیمانے پر قبول کیا جاتا ہے تاہم ایک کرنسی کے لحاظ سے یہ ابھی بہت غیرمستحکم ہے، اور اس کی قدر ایک حصص کی طرح گھومتی رہتی ہے۔

دوسری سب سے اہم وجہ یہ ہ ے کہ زیادہ تر لوگ اسے خرید کر فوراً خرچ کرنے کے بجائے سرمائے کی شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ کرپٹو کرنسی سے کسی ملک کی کرنسی کو نہیں بلکہ سونے جیسے قیمتی دھاتوں کو خطرات لاحق ہیں کیو ں کہ زیادہ تر افراد سونے، ہیرے میں سرمایہ کاری کے بجائے کرپٹو کرنسی خصوصا بٹ کوائن ، ایتھریم وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ حکومتیں اس بات کو پسند نہیں کرتیں کہ عوام پیسہ تخلیق کریں، بہ ظاہر تو وہ کچھ وقت کے لیے کرپٹو کرنسی کو برداشت کر رہے ہیں، لیکن جلد یا بہ دیر اپنے ڈیجیٹل کرنسی بنا کر اس میں سے بٹ کوائن کو نکال باہر کریں گے۔

دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں ایک دم اضافہ اس وقت ہوا جب برقی کار ساز ادارے ٹیسلا نے رواں سال مارچ میں ماہرین ماحولیات اورسرمایہ کاروں کی مخالفت کے با وجوداعلان کیا کہ اب ٹیسلا کی گاڑیوں کو بٹ کوائن کی مدد سے خریدا جاسکتا ہے۔ اور اس سے ایک قبل ہی ٹیسلا نے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بٹ کوائن خریدنے کا انکشاف کیا تھا۔

اپریل میں اس وقت دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد ایلون مسک کی ایک ٹوئٹ نے دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کی قیمتوں کو لمحوں میں زمین بوس کردیا۔ کمرشیل خلائی پروازیں شروع کرنے والی کمپنی اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹیسلا کی جانب سے بٹ کوائن وصول نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ماحولیاتی تحفظات کے تناظر میں ہم نے ادائیگیوں کے لیے بٹ کوائن کو وصول کرنا بند کردیا ہے اور اب صارفین بٹ کوائن کی مدد سے ٹیسلا نہیں خرید سکتے۔ بٹ کوائن کی مائننگ اور ٹرانزیکشن میں روایتی ایندھن (فاسلز فیول) خصوصاً کوئلے کے بڑھتے ہوئے استعمال پر ہمیں تحفظات ہیں۔ ’کرپٹو کرنسی ایک اچھا آئیڈیا ہے، لیکن اسے ماحولیاتی نقصان کے ساتھ نہیں لایا جاسکتا۔‘

٭کرپٹو کرنسی کس طرح کام کرتی ہے؟

ایک استعمال کنندہ کے نقطہ نظر سے کرپٹو کرنسی ایک ایسی موبائل ایپلی کیشن اور کمپیوٹر پروگرام سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو ذاتی کرپٹوکوائن والیٹ فراہم کرتا ہے اور استعمال کنندہ اس کے ذریعے کوائن (ڈیجیٹل کرنسی) بھیجتا اور وصول کرتا ہے۔ لیکن استعمال کنندہ کے نقطہ نظر کے برعکس اس کا پس منظر دیکھا جائے تو ڈیجیٹل کرنسی کا کوائن نیٹ ورک ایک عوامی لیجر (بہی کھاتا) میں شریک کرتا ہے جو ’’بلاک چین‘‘ کہلاتا ہے۔ اس لیجر میں تمام ٹرانزیکشن کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں اور ہر ٹرانزیکشن کی درستی کے لیے استعمال کنندہ کے کمپیوٹر کی تصدیق کی جاتی ہے۔ کسی جعل سازی سے بچنے کے لیے ہر ٹرانزیکشن کو ڈیجیٹل دستخط سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جب کہ کمپیوٹر یا مخصوص ہارڈ ویئرز کے ذریعے یہ سروس فراہم کرنے پر بطور انعام کوائن بھی دیے جاتے ہیں، جسے اکثر لوگ ’’مائننگ‘‘ کہتے ہیں۔

٭کرپٹو کرنسی سے ادائیگی کا طریقہ کار

کرپٹوکرنسی سے خریداری کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے زیادہ سہل ہے اور اسے کسی بھی مرچنٹ اکاؤنٹ کے بغیر وصول کیا جاسکتا ہے۔ رقوم کی ادائیگی والیٹ ایپلی کیشن کے ذریعے کی جاتی ہے اور یہ ایپلی کیشن آپ اپنے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون سے بھی استعمال کر سکتے ہیں، پیسے بھیجنے کے لیے وصول کنندہ کا ایڈریس اور ادا کی جانے والی رقم لکھ کرSend کا بٹن دبا دیں۔

وصول کنندہ کا ایڈریس لکھنے کا طریقہ مزید سہل بنانے کے لیے اسمارٹ فون کی مدد سے QRکوڈ (ایڈریس، فون نمبرز، ای میل ایڈریس اور ویب سائٹ کی معلومات پر مبنی مخصوص کوڈ جو سیاہ اور سفید چوکور خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اسکین کرنے پر تمام معلومات فون میں منتقل کردیتا ہے) اسکین کرلیں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے دنیا بھر میں کسی بھی جگہ کسی بھی وقت رقوم کی منتقلی اور وصولی فوراً ہوجاتی ہے۔ یہ طریقہ کار کسی سرحد، کسی بینک کی تعطیل اور حکومتی پالیسیوں کی قید سے آزاد ہے۔

کرپٹو کرنسی استعمال کنندہ کو اپنی رقم پر مکمل کنٹرول دیتی ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی سے کی جانے والی ادائیگیوں پر کوئی فیس نہیں لی جاتی، تاہم بٹ کوائنز کو کاغذی نوٹوں میں تبدیل کروانے یا فروخت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست جمع کرانے پر معمولی فیس لی جاتی ہے، جو کہ Pay Pal  اور کریڈٹ کارڈ نیٹ ورکس کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔ کرپٹوکرنسی سے کی جانے والی ٹرانزیکشنز محفوظ، ناقابل واپسی ہیں اور ان میں صارف کی حساس اور نجی معلومات بھی شامل نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری مقاصد کے لیے یہ ایک محفوظ اور بھروسے کے قابل کرنسی سمجھی جا رہی ہے اور تجارت پیشہ افراد کریڈٹ کارڈ سے ہونے والے فراڈ سے بھی ممکنہ حد تک بچ سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کنندہ کو اپنی ٹرانزیکشن پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور فروخت کنندہ کے لیے کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی کرنے والے صارف سے فیس کی مد میں اضافی فیس وصول کرنا ناممکن ہے۔

٭ کرپٹو کرنسی کے نقصانات اور اس سے ہونے والی دھوکا دہی

کرپٹو کرنسی مکمل طور پر اوپن سورس اور ڈی سینٹرلائزڈ ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کسی بھی وقت مکمل سورس کوڈ پر قابض ہوکر دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو ان کی متاع حیات سے محروم کر سکتا ہے۔ تاہم ایسا ہونا بظاہر ناممکن ہے، کیوں کہ یہ مکمل نظام ’’cryptographic algorithms‘‘ پر مشتمل ہے اور کوئی فرد یا تنظیم ڈیجیٹل کرنسی کے چین بلاک پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکتی۔ کرپٹو کرنسی کا ایک بڑا نقصان اس کی مالیت میں تیزی کے ساتھ ہونے والا اتار چڑھاؤ ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر ڈیجیٹل کرنسی وصول کرنے والے چھوٹے سرمایہ داروں پڑتا ہے۔ تاہم قیمتوں میں یک د م ہونے والے اتار چڑھاؤ سے اس کی لین دین کرنے والے ایک لمحے میں ارب پتی سے سڑک پر آسکتے ہیں۔

اب بھی عوام کی اکثریت اس کے بارے میں اور اس کے ذریعے خریدوفروخت کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاطر اور مفادپرست عناصر سادہ لوح افراد کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ان ممالک میں بنگلادیش، انڈیا اور پاکستان سرفہرست ہیں جہاں جعل ساز لوگوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر بے وقوف بنا کر انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کررہے ہیں۔

بہت سی ویب سائٹس آپ کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی نظر آئیں گی، لیکن سوائے چند ایک کے ساری کمپنیاں آپ سے ڈالر، پاؤنڈ، پاکستانی اور انڈین کرنسی میں رقوم وصول کر کے بھاگ جاتی ہیں۔ بٹ کوائن، لٹ کوائن، ایتھریم، رپل، ڈوگ کوائن اور دیگر سیکڑوں کرپٹو کرنسیز کی معلومات www.coinmarketcap.com سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

٭کوائن کی مائننگ کیسے کی جاتی ہے؟

نئے کوائنز ایک ڈی سینٹرالائز پروسیس ’’مائننگ‘‘ سے بنائے جاتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں نیٹ ورک کے لیے خدمات سر انجام والے افراد کو انعام کے طور پر کوائنز دیے جاتے ہیں۔ ان افراد کو ’’مائنرز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مائنرز ٹرانزیکشنز کو پروسیس کرنے اور اسپیشلائزڈ ہارڈ ویئرز استعمال کرتے ہوئے نیٹ ورک کو محفوظ بناتے ہوئے ایکسچینج میں نئی کرپٹو کرنسی کو جمع بھی کرتے ہیں۔

ان کوائنز کا پروٹوکول اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ نئے کوائن ایک فکسڈ ریٹ پر تخلیق ہوتے ہیں، جس نے کرپٹو کرنسی کو بہت مسابقت والا کاروبار بنادیا ہے۔ جب زیادہ مائنرزنیٹ ورک میں شامل ہوجاتے ہیں تو پھر انفرادی طور پر ہر کسی کا منافع کم ہوجاتا ہے اور کسی ڈویلپر یا مائنر کے پاس منافع میں اضافے کے لیے سسٹم میں ردوبدل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سسٹم کے معیار سے مطابقت نہ کرنے والے ڈیجیٹل کوائنز نوڈ کو دنیا بھر میں مسترد کردیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت کا انحصار معاشیات کے قانون ’’طلب‘‘ اور ’’رسد‘‘ پر ہے۔

دنیا بھر میں سر فہرست کرپٹو کوائن
٭ بٹ کوائن
بٹ کوائن رقم کی ادائیگی کے لیے دنیا کا سب سے منفرد ڈیجیٹل کرنسی کا نظام ہے۔ یہ پیسوں کی منتقلی اور وصولی کا دنیا کا پہلا ڈی سینٹرلائزڈ ’’پیر ٹو پیر‘‘ نیٹ ورک ہے، جو استعمال کنندہ کنٹرول کرتا ہے، جس کے لیے اسے کسی سینٹرل اتھارٹی یا مڈل مین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ استعمال کنندہ کے نزدیک بٹ کوائن انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کے لیے نقد رقم کی طرح ہے۔ بٹ کوائن کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ سسٹم میں صرف دو کروڑ دس لاکھ بٹ کوائن ہی تخلیق کیے جاسکیں گے۔

اب تک ایک کروڑ 85 لاکھ بٹ کوائن مائن ہو چکے ہیں۔ بٹ کوائنز کو 8 ڈیسی مل (0.000 000 01 BTC) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، مستقبل میں ضرورت پیش آنے پر اسے مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی طلب اور کم ہوتی رسد کی وجہ سے اگلے چند سالوں میں اس کی مالیت موجودہ مالیت سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
٭ ایتھریم
یہ کرپٹو کرنسی کا پیر ٹو پیر اسمارٹ کونٹیکٹ پر مشتمل ایک ڈی سینٹرالائزڈ پلیٹ فارم ہے۔ اسے 2015 میں ویٹالک بٹرن نے ’نیکسٹ جنریشن کرپٹوکرنسی اینڈ ڈی سینٹرالائزڈ ایپلی کیشن پلیٹ فارم‘ کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ استعمال میں آسان اور زیادہ تر جگہ پر قابل قبول ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مختصر عرصے میں ایک ایتھریم کی قیمت 2400 ڈالر کے مساوی ہوچکی ہے۔
٭لٹ کوائن
لٹ کوائن کو اکتوبر 2011 میں جاری کیا گیا۔ اسے گوگل کے سابق ملازم چارلس لی نے بٹ کوائن کے متبادل کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ لٹ کوائن کو دیگر کرپٹو کرنسی کی طرح مائئنگ کے ذریعے حاصل کر کے خریدوفروخت اور خدمات حاصل کرنے کے لیے نقد رقم کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے استعمال کرنے اور مائننگ کا طریقہ بھی کافی حد تک بٹ کوائن سے مماثلث رکھتا ہے۔ اس وقت ایک لٹ کوائن کی مالیت 160ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس وقت ایک کروڑ اسی لاکھ لٹ کوائن زیرگردش ہیں۔
٭زی کیش
زی کیش ایک ڈی سینٹرالائزڈ اور اوپن سورس پر مبنی کرپٹو کرنسی ہے، جسے 2016 میں متعارف کرایا گیا۔ زی کیش کی مقبولیت کی اہم وجہ اس کی منتخب شفاف ٹرانزیکشنز ہیں۔ زی کیش کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے استعمال کنندہ کی نجی معلومات کو محفوظ رکھتے ہوئے ہر بلاک چین میں ہونے والے ہر لین دین کے لیے اضافی سیکیوریٹی کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اس کرپٹو کرنسی میں بھیجنے اور وصول کرنے کے ساتھ ساتھ بھیجی گئی تمام رقوم کی تفصیلات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ بٹ کوائن سے مماثل لیکن اس سے زیادہ محفوظ ہونے کی وجہ سے اس کی قدر قلیل عرصے میں ہی 127ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔
٭ڈیش
ڈیجیٹل کیش کے مخفف ڈیش نام کی اس کرپٹو کرنسی کو 2014 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس کرنسی کو ڈارک کوائن کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، جو معلومات خفیہ رکھنے کی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ڈارک ویب سائٹس (ایسی ویب سائٹس جو سرچ انجن کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے، اسلحہ، منشیات، پورنو گرافی اور اس نوعیت کی دیگر خدمات فراہم کرتی ہیں) استعمال کرنے والوں کی اولین ترجیح بن چکی تھی۔ اس وقت مارکیٹ میں سات کروڑ ستر لاکھ ڈیش زیرگردش ہیں، جب کہ اس کی مالیت 163ڈالر کے آس پاس ہے۔

بٹ کوائن، 24 گھنٹوں میں 300 ارب ڈالرکا نقصان
کسی حکومتی سرپرستی کے بنا چلنے والی کرپٹو کرنسی کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ اگلے ایک منٹ کے لیے بھی اس ڈیجیٹل کرنسی کے قدر کے بارے میں پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ کرپٹو کرنسی کے اعدادوشمار شائع کرنے والی ویب سائٹ کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق رواں سال اپریل میں چین میں کرپٹو کرنسی کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں24 گھنٹے میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ 2اعشاریہ 2 کھرب ڈالر سے کم ہوکر 1اعشاریہ 9 کھرب ڈالر پر پہنچ گئی۔ یعنی 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں دنیا بھر میں 300 ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائن اُڑن چھو ہوگئے۔

اپریل میں چین کے علاقے زن جیانگ میں کرپٹو کرنسی خصوصاً بٹ کوائن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، زن جیانگ کو بٹ کوائن کی مائئنگ نیٹ ورک کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس کریک ڈاؤن کے بعد بٹ کوائن کی مائننگ 215 ایگزا ہیش فی سیکنڈ سے کم ہوکر 120 ایگزا ہیش فی سکینڈ ہوگئی، جس نے ایک دن سے بھی کم مدت میں 300 ارب ڈالر کو مارکیٹ سے صاف کردیا۔

نورٹن نے کرپٹو کرنسی ایتھریم کی مائننگ کواپنی پراڈکٹس کا حصہ بنا لیا
کمپیوٹر کے اینٹی وائرس سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی نورٹن نے کرپٹو کرنسی کی مائننگ کو اپنی پراڈکٹ کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ نورٹن کا شمار دنیا کی اینٹی وائرس سافٹ ویئر بنانے والی بہترین کمپنیوں میں کیا جاتا ہے، نورٹن کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق نورٹن 360 کے صارفین کرپٹو کرنسی ’ایتھریم‘ کے مائننگ فیچر تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ کرپٹوکرنسی کی مائننگ کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ مائننگ کے لیے یہ ایک محفوظ اور آسان راستہ اور ہمارے صارفین کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’کئی سال سے بہت سارے مائنرز نے کرپٹوکرنسی کے لیے اپنی سیکیورٹی کو غیرفعال کرکے کوائن کی مائننگ کے لیے خطرات مول لیے ہیں۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ بہت سارے اینٹی وائرس سافٹ ویئرز بشمول نورٹون نے مائننگ کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے بہت سارے پروگرامز کو خطرناک پروگرامز کے طور پر شناخت کیا ہے اور صارفین اینٹی وائرس پروگرامز کو غیر فعال کرکے مائننگ کے پراسیس کو جاری رکھتے ہیں۔

اگر نورٹن اس ماڈل پر عمل درآمد کردیتا ہے تو پھر اس کا فائدہ کمپنی کے لاکھوں صارفین کے کمپیوٹرز کو پہنچے گا جو آمدن کے ایک نئے دور میں داخل ہوجائیں گے۔ لیکن مائننگ کے لیے بے تحاشا توانائی کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کے اثرات صارفین کے بجلی کے بلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ تاہم سیکیوریٹی ماہرین کا نورٹون کے اس فیصلے پر کہنا ہے کہ ’نورٹن ایک ایسا دروازہ کھول رہا ہے جسے بند کرنا بہت مشکل ہوسکتا ہے۔‘

اپنے بیان میں نورٹون کے پراڈکٹ ایگزیکٹو گیگان سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پہلی سائبر سیکیوریٹی کمپنی بننے پر فخر ہے جو کہ اپنے صارفین کو کوائن مائننگ کی پیش کش کر رہے ہیں، جس کی بدولت وہ بحفاظت اور بہ آسانی فارغ وقت میں اپنے کمپیوٹرز کو ڈیجیٹل کرنسی کمانے کا اہل بنا رہی ہے‘ اور ہمارے صارفین کرپٹو کرنسی کی مائننگ صرف ایک کلک پر کرسکتے ہیں۔ یہ سروس ابتدائی طور پر نورٹن کے دیرینہ صارفین کے لیے آج سے دست یاب ہوگئی ہے اور اس کا دائرہ کار اگلے چند ہفتوں میں بڑھا دیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔