بورڈ میں بے یقینی سے سابق کرکٹرز اور آفیشلز پریشان

آئین پر عمل درآمد ہو تو مقدمات کی نوبت نہ آئے (وقار) مستقل اور منظم طریقہ کار کی ضرورت ہے، آصف اقبال


Sports Desk January 22, 2014
اگر آئین پر عمل درآمد ہو تو عدالتوں کی نوبت نہ آئے،سابق اسٹارز۔فوٹو:فائل

RAWALPINDI: پی سی بی میں بے یقینی کی صورتحال نے سابق کرکٹرز اور آفیشلز کو بھی تشویش کا شکار کر دیا۔

سابق کپتان وقار یونس نے کہاکہ اگر آئین پر عمل درآمد ہو تو عدالتوں کی نوبت نہ آئے،جب تک ایسا نہ ہوا بورڈ تنازعات میں گھرا رہے گا ۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم اپنے اداروں میں جمہوریت نہیں لا رہے،کہیں حکومتی اثر و رسوخ تو کہیں شخصی اجارہ داری ہے۔ وقار یونس نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سرکاری حلقوں میں ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل رہا لہٰذا یہ ادارہ کئی بار مختلف نوعیت کے تنازعات اور بحران سے دوچار رہا ہے، اس بار صورتحال پہلے سے بہت مختلف اور پیچیدہ ہے، پہلی بار عدالت اس معاملے میں براہ راست سامنے آئی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکا اشرف کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا، بعد میں ڈویژن بنچ نے انھیں بحال کر دیا، عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ بھی ابھی تک صحیح خطوط پر استوار نہیں ہو سکا،ہر دور میں نئے تجربے ہوتے ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ملکی کرکٹ کے معاملات کرکٹرز چلائیں اور انتظامی معاملات ٹیکنوکریٹس کے حوالے کیے جائیں،اگر فوری طور پر بورڈ کو جمہوری انداز میں مضبوط نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستانی کرکٹ کا حال بھی ہاکی جیسا ہی ہوجائے گا۔ سابق کپتان آصف اقبال نے کہا کہ بورڈ کے معاملات چلانے کیلیے مستقل اور منظم طریقہ کار کی ضرورت ہے جس کے نہ ہونے سے آئے دن تنازعات پیدا ہوتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں بلکہ یہ ایک پراڈکٹ بن چکا،اس کی چمک دمک ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔آصف اقبال نے کہا کہ چیئرمین کی بار بار تبدیلی کا منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ آئی سی سی اور دوسرے کرکٹ بورڈز پاکستان کی بات پر یقین نہیں کرتے۔

 photo 9_zpsafde2b61.jpg

ایڈہاک کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالطاف نے کہاکہ ذکا اشرف بحال ہونے کے باوجود زیادہ عرصے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے،انھیں فوری طور پر پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ وزیراعظم سے ملاقات کرنا ہوگی۔انھوں نے سوال کیا کہ شوق سب کو ہے لیکن کتنے بورڈکی باگ ڈور سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ انگلینڈ کے سابق کپتان ٹونی لوئس اور مائیک بریرلی کرکٹ سے تعلق اور قابلیت کی بنا پر ایم سی سی کے صدر بنے،کیا پاکستان میں اس وقت اس طرح کی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ جمہوری عمل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے مسائل کا واحد حل ہے، چیئرمین کیلیے روٹیشن پالیسی اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں، چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دیتے ہوئے چار نائب صدور ہوں جو اپنی باری پر بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں۔ ایک اور سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا نے کہاکہ عدالتی فیصلے کے تحت ذکا اشرف کی بحالی کے بعد حکومتی عمل دخل خارج از امکان نہیں ہے۔

نجم سیٹھی کو عہدے سے ہٹائے جانے کو حکومت چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہوگی،اس تمام صورتحال میں اہم سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کیا قدم اٹھائیں گے،انھوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے ذکا اشرف سیاسی وار سہ جائیں کیونکہ پیپلز پارٹی ہی نہیں مسلم لیگ ن میں بھی ان کا اثر و رسوخ موجود ہے، انھوں نے مزید کہا کہ بورڈ کی باگ ڈور کوئی بھی سنبھالے اسے اتنا وقت ضرور ملنا چاہیے کہ وہ تسلسل سے کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کر سکے،انھوں نے کہا کہ بورڈ میں بے یقینی کے نتیجے میں صرف انتظامی معاملات ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس کا براہ راست اثر ٹیم اور اس کی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے۔سابق چیئرمین خالد محمود نے کہاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ صورتحال میں حکومتی مداخلت کا دروازہ بند ہوا نہ کام خوش اسلوبی سے چلے گا، حکومتی مداخلت بند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی آئین سازی اور اس میں ترامیم کاحق جنرل باڈی کو دیا جائے۔

ذکا اشرف کی بحالی کے باوجود صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ اگر حکومت نے ڈویژن بینچ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا تو تصادم کی فضا پیدا ہوگی،حکومتی عمل دخل کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرے، اگر یہ معاملہ اپیل کی صورت میں سپریم کورٹ میں گیا تو پھر ایک طویل عدالتی کشمکش شروع ہو جائے گی جس میں نقصان پاکستانی کرکٹ کا ہی ہوگا۔ سابق چیف ایگزیکیٹو عارف علی خان عباسی نے کہاکہ بورڈ حکومت کا کھلونا بن چکا، یہ سونے کی چڑیا ہے کیونکہ جو بھی ایڈہاک میں آئے وہ جاتا نہیںہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اصل قوت جنرل باڈی ہے جو ایسوسی ایشنز کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے، جب تک جنرل باڈی، ایگزیکٹیو کونسل، اعزازی خازن اور چیف ایگزیکٹیو رہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہے، پی سی بی اگر اسی طرح تنازعات اور عدالتی کارروائیوں میں الجھا رہا تو آئی سی سی کی رکنیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔