پاکستان میں انسداد پولیو رضا کاروں کو سلامتی کے شدید خطرات لاحق

معصوم ونہتے رضاکاروں کونشانہ بناکریہ پیغام دیا گیا کہ دہشتگردجب چاہیں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکتے ہیں،ای ڈی اوہیلتھ


Staff Reporter January 22, 2014
جاں بحق ہونیوالوں کی ساتھی شدت غم سے نڈھال ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

سال رواں کی پہلی قومی انسدادپولیومہم دہشتگردی کانشانہ بن گئی،پاکستان میں پولیو رضاکاروں کو سلامتی کے شدیدخطرات لاحق ہیں، دوسروں کے بچوں کوپولیووائرس سے تحفظ فراہم کرنے والے رضا کار خود غیر محفوظ ہوگئے۔

کراچی میں مہم کے دوسرے روز دہشت گردوں نے انسداد پولیو مہم کے 3پولیورضاکاروںکوموت کے گھاٹ اتاردیاجس کے بعدکراچی میں پولیومہم کومؤخرکردیاگیا،اس سے قبل کراچی میں شروع کی جانے والی پولیومہم کے پہلے دن امن وامان کی غیر یقینی صورتحال اورسیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کراچی کی15یونین کونسل میں مہم شروع نہیں کی جاسکی تھی مہم کے دوسرے روزکراچی میں ایک بار پھر انسداد پولیو رضا کاروں کو نامعلوم دہشت گردوں نے نشانہ بنایااور2خواتین سمیت22سالہ فہدکوموت کے گھاٹ اتاردیااس ظلم و بربریت اوربزدلانہ کارروائی کے بعد ای ڈی اوہیتلھ کراچی ڈاکٹر ظفراعجازنے مہم کوفوری مؤخرکرنے کا اعلان کیا، مہم کے دوران رضاکاروں کی حفاظت کویقینی بنانے کیلیے ضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ پولیس حکام کی ذمے داری ہوتی ہے لیکن کراچی میں منگل کومعصوم و نہتے پولیورضاکاروں کوگولیوں کانشانہ بناکریہ پیغام دیا گیاکہ دہشتگرد جب چاہیں اورجہاں چاہیں اپنے مذموم مقاصدکوپوراکرسکتے ہیں۔

 photo 2_zps172730c0.jpg

پولیو رضاکاروں کے مطابق پولیومہم سے قبل ضلعی انتظامیہ کوسیکیورٹی خدشات سے آگاہ بھی کیاگیاتھاجس پرمتعلقہ حکام نے کراچی کی 15 یونین کونسلوں میں مہم کومؤخرکیاگیاتھا،اس کے باوجودرضاکاروں کی حفاظت اورمہم کوکامیاب بنانے کیلیے کوئی موثراقدامات نہیں کیے جاسکے جس کی وجہ سے کراچی میں ایک بارپھر2خواتین سمیت ایک انسدادپولیو رضاکار کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا،عالمی اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد پولیومہم کوکامیاب بنانے کی ذمے داری حکومت پرعائدہوتی ہے باربارمہم کو مؤخرکرنے سے پولیووائرس پرقابوپانامشکل ہوجاتاہے۔ان ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان میں رضاکاروں کی سیکیورٹی اہم مسئلہ بن گیاہے،پاکستان میں انسداد پولیو رضا کاروں کوسلامتی کے شدیدخطرات لاحق ہیں تاہم ان ماہرین نے کہاکہ ان رضاکاروں کی حفاظت کیلیے فول پروف اقدامات ضروری ہے،پاکستان میں انسدادِپولیومہم گزشتہ3سال سے دوسروں کے بچوں کوپولیووائرس سے تحفظ فراہم کرنے والے رضاکارخودکوخودغیرمحفوظ سمجھتے ہیں۔