اب انگلیوں کے پسینے سے بھی بجلی بنانا ممکن

جامعہ کیلیفورنیا کی انقلابی ایجاد کی بدولت اب سوتے میں بھی اسمارٹ فون چارج کرنا ممکن ہوگا


ویب ڈیسک July 14, 2021
اس اولین کامیابی سے انگلیوں کے پسینے سے بجلی بنانے والے نظام کی افادیت ثابت ہوگئی ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہم خود اپنے ذاتی برقی آلات کے لیے ضروری بجلی بناسکیں گے۔ فوٹو: بشکریہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو

کیا انگیوں کے پوروں پر لچکدار اسٹیکر لگا کر اس سے بجلی بنائی جاسکتی ہے؟ اس کا جواب ، اثبات میں اور جامعہ کیلیفورنیا، سان ڈیاگو نے انگلیوں کے کناروں پر لگائے گئے باریک اسٹیکر سے بجلی بنانے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جو انسانی پسینے سے بجلی تیارکرتا ہے۔

پسینے سے بجلی بنانے والا یہ آلات بایوفیول سیل (بی ایف سی) کہلاتے ہیں۔ انہیں پہن کر اتنی بجلی تو بنائی جاسکتی ہے کہ برقی پہناوے (ویئرایبلز) کے لیے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ بی ایف سی سوتے میں بھی بجلی بناتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ کی بورڈ ٹائپنگ سے بھی یہ بجلی بناسکیں گے۔

بی ایف سی بنانے والے سائنسداں جوزف وینگ کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ چھونے، ٹی وی دیکھنے اور کھانے یینے کے دوران بجلی بناسکیں۔ جوزف نینوانجینیئرنگ کے ماہرہیں۔ ماہرین چاہتے ہیں کہ لوگ شعوری طور پر برقی رو بناسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو بہت انقلابی قرار دیا جارہا ہے۔

اس کے لیے انگلیاں بہترین انتخاب ہیں کیونکہ انگلیوں کے کناروں پر پسینے کے غدود بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ شاید اس وجہ سے انگلیوں کے پور پسینے سے بھرپور ہوتے ہیں کہ ہم اشیا کو تھام سکیں۔ فی منٹ چند مائیکرولیٹر پسینہ ایک انگلی سے خارج ہوسکتا ہے۔

لیکن اس پسینے سے 300 ملی جول فی مربع سینٹی میٹر بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ تجرباتی طور پر سائنسدانوں نے وٹامن سی محسوس کرنے والا ایک آلہ کامیابی سے چلایا ہے جسے تھوڑی سی تبدیلی کے بعد خون میں شکر ناپنے والے گلوکوز میٹرمیں ڈھالا جاسکتا ہے

مقبول خبریں