ہتھیار اٹھانے والوں کو حراست میں لینے کیلیے اجازت کی شرط ختم

پہلے سیکریٹری داخلہ کی شرط تھی،تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس میں ابہام ختم


Numainda Express January 24, 2014
سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے حراستی مراکزکو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔فوٹو:فائل

ISLAMABAD: جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افرادکے معاملے کو قانونی تحفظ دینے کیلیے جاری تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس2014ء میں موجود ابہام دورکرتے ہوئے جمعرات کو وفاقی حکومت کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ پاکستان، پاکستانیوں، ریاست، عسکری و نیم عسکری اداروں کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوںکو 90 دن کیلیے قانونی طور پر زیر حراست رکھنے کیلیے سیکریٹری داخلہ سے تحریری اجازت یا منظوری نہیں لینا ہوگی۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق ترمیمی آرڈیننس کے مطابق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے حراستی مراکزکو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ ملک دشمن شخص کو حراست میں لینے کیلیے سیکریٹری داخلہ کی تحریری اجازت کو ترمیمی آرڈیننس سے نکال دیا گیاہے۔

 photo 4_zps3572a32c.jpg

آرڈیننس کی رو سے حکومت حراست میں لینے کی وجوہات بتانے کی پابند نہیں ہے۔ پہلے کسی شخص کو حراست میںلینے کیلیے سیکریٹری داخلہ یا گریڈ21کے مجاز افسر سے اجازت لینا ضروری تھی لیکن اب یہ الفاظ نکال کر صرف حکومت کی منظوری ہی کافی قرار دیدی گئی ہے۔