لاپتہ افراد کیس وزارت دفاع نے تعاون نہیں کیا آئندہ نمائندہ پیش نہ ہوا کرے سپریم کورٹ

دہشت گردی یکطرفہ عمل نہیں،کسی کابیٹااورکسی کا شوہر اٹھالیا جاتا ہے لیکن ریاست بے بس ہے،تحفظ کون دیگا؟جسٹس جواد


Numainda Express January 24, 2014
وزیر اعلیٰ،وزیر اعظم کو تشویش ہونی چاہیے لیکن یہاںکسی کودلچسپی نہیں،ریمارکس،فوٹو: فائل

ISLAMABAD: سپریم کورٹ نے فورٹ عباس بہاولنگر سے لاپتہ خاور محمودکے بارے میں پنجاب حکومت کی رپورٹ مستردکر دی ہے اور وفاقی حکومت کا موقف طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے وزارت دفاع کے نمائندے کو آئندہ لاپتہ افرادکے مقدمات میں پیش نہ ہونے کی ہدایت کی اورآبزرویشن دی کہ وزارت دفاع سے اس بارے میں عدالت کوکوئی تعاون نہیں مل رہا،آئندہ وزارت کا نمائندہ پیش ہونے کی زحمت نہ کرے۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کسی کا شوہرکسی کا بیٹا اٹھایا جاتا ہے اور ریاست بے بس ہے،کسی بھی شہری کو غائب کرنے پرسب سے پہلے وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم کو تشویش ہونی چاہیے لیکن یہاں نہ صوبائی اور نہ ہی وفاقی حکومت کوکوئی دلچسپی ہے،آج ملک میں جوکچھ ہورہا ہے وہ گزشتہ لاقانونیت کی کڑیاں ہیں، دہشت گردی یکطرفہ عمل نہیں،دہشت اس طرف بھی ہے اس طرف بھی۔فاضل جج نے کہا ہمیں بتا دیا جائے شہریوں کو تحفظ کون دے گا ،جن کا اختیار ہے انھیں احساس نہیں، اگرآج بھی نیک نیتی سے آئین وقانون کی پیروی کی جائے تو سارے مسائل خود حل ہوجائیںگے،ڈی پی او بہاولنگر نے رپورٹ پیش کی اور بتایا پولیس کو کچھ لاشیں ملی ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کی جائے گی، ہوسکتا ہے لاپتہ شخص شامل ہو۔

 photo 6_zps8d0ef578.jpg

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے بتایا جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کردی گئی ہے۔پنجاب حکومت کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔عدالت نے اس رپورٹ پر سخت بر ہمی کا اظہارکیا ۔ جسٹس جواد نے کہا پولیس آئی ایس آئی اور ایم آئی کے پیچھے نہیں بھاگے گی، اگرکوئی تفتیش میں تعاون نہیں کرتا تو ضابطہ فوجداری کے تحت ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے، معاملے کی حساسیت کوکوئی محسوس نہیںکر رہا، ریاست جبری گمشدگیوں پرخاموش اور حکومت کوکوئی پرواہ نہیں،اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ 15 سال تک بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔وزارت دفاع کے نمائندے نے کچھ کہنا چاہا توجسٹس جواد نے کہا آپ کچھ کرنیکی پوزیشن میں نہیں اس لیے آپ آئندہ پیش نہ ہوں۔

فاضل جج نے کہا اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بتائیں شہریوں کے تحفظ کی ذمے داری کون لے گا، ہر روز اخبار اٹھا کر دیکھتے ہیں تولاقانونیت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، دہشت پھیلانے والا دہشتگرد ہوتا ہے،آج کے حالات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے کہا کہ وہ معاملے کو اعلیٰ سطح پراٹھائیںگے ۔اے پی پی کے مطابق جسٹس جواد نے درخواست گزارخاتون سے متعلق کہا یہ دورسے آئی ہے، اٹارنی جنرل کے پاس کم ازکم ایک لاکھ روپے کی ایسی رقم ہونی چاہیے تاکہ ان کوکرایہ اورخرچہ دیا جاسکے، یہ چیزقانون میں بھی ہے۔آن لائن کے مطابق عدالت نے اٹارنی جنرل کوکہا کہ وفاقی حکومت سے پوچھ کر بتائیں آخرلاپتہ افرادکو بازیاب کرانا چاہتی ہے یا نہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل سے24گھنٹوں میں جواب طلب کرلیا ہے۔