پاکستان سے کروڑوں کمالیے ڈیو واٹمور اب دبئی میں ’’نوٹ چھاپیں‘‘ گے

دبئی میں اکیڈمی قائم کرنے کیلیے میری بات چیت جاری ہے، ڈیو واٹمور


Sports Desk January 26, 2014
میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دیاکہ پی سی بی مجھ سے کنٹریکٹ میں اضافہ نہیں چاہتا اس بات پر مجھے افسوس ہے، واٹمور۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

لاہور: پاکستان سے کروڑوں روپے کمانے کے بعد ڈیو واٹمور اب دبئی میں ''نوٹ چھاپیں'' گے، وہ وہاں کرکٹ اکیڈمی قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔کوچ پی سی بی کے ساتھ 2 سالہ معاہدے میں توسیع نہیں چاہتے اور انھیں31 جنوری تک پاکستان میں رہنا ہے، وہ لاہور سے میلبورن روانہ ہوکر ایک ماہ آبائی ملک آسٹریلیا میں اہل خانہ کے ساتھ گذاریں گے۔

ایک بھارتی اخبار کو انٹرویو میں ڈیو واٹمور نے کہا کہ دبئی میں اکیڈمی قائم کرنے کیلیے میری بات چیت جاری ہے،میں جلد ہی وہاں کی اسپورٹس مینجمنٹ کمیٹی سے کنٹریکٹ پر دستخط کر سکتا ہوں، انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس مجھے صرف 2 ہفتے کی چھٹی ملی جو پہلے سال کے مقابلے میں خاصی بہتر تھی، اب میں آسٹریلیا میں ایک ماہ فیملی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، پاکستان میں ملازمت کے سبب مجھے طویل عرصے تک گھروالوں سے دور رہنا پڑا اسی لیے میں بطور ہیڈ کوچ معاہدے میں توسیع نہیں چاہتا، اہلیہ کیتھرائن،بچوں الیکذینڈرا اور ڈیو نیل جونیئر کے ہمراہ مجھے اپنی ضعیف والدہ مارجوری کا بھی خیال رکھنا ہے، لہذا ایک ماہ صرف انہی کے ساتھ رہوں گا۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ تاثر دیاکہ پی سی بی مجھ سے کنٹریکٹ میں اضافہ نہیں چاہتا اس بات پر مجھے افسوس ہے، درحقیقت یہ فیصلہ میرا تھا،گذشتہ برس نومبر میں پریس ریلیز کے ذریعے بھی یہ بات ریکارڈ پر آ چکی۔ واٹمور کو اب ایشیا کے چاروں ٹیسٹ ممالک میں کوچنگ کا اعزاز مل چکا، وہ2بار سری لنکن ٹیم کے ساتھ وابستہ رہے،1996میں ورلڈکپ بھی جیتا، انھوں نے ایک، ایک مرتبہ بنگلہ دیش اور پاکستان کی رہنمائی کا موقع پایا، بھارتی نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے سربراہ بننے کے ساتھ دو سیزنز تک آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی کوچنگ بھی سنبھالی، انھوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس سیزن تو نہیں مگر مستقبل میں دوبارہ انڈین لیگ میں ذمہ داری نبھائوں گا۔

 photo 6_zps0043569e.jpg

آسٹریلیا کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ڈیو واٹمور درحقیقت کولمبو میں پیدا ہوئے، اسی لیے وہ خود کو ''برصغیر کا لڑکا'' کہتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ وہ جلد60سال کے ہو جائیں گے۔ واٹمور کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے فیلڈنگ کوچ جولین فائونٹین کا معاہدہ بھی ختم ہو رہا ہے، دونوں کو پی سی بی نے گذشتہ دنوں باوقار انداز میں الوداع کہا، قذافی اسٹیڈیم کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ''ہائی ٹی'' میں انھیں قالینوں کا تحفہ پیش کیا گیا، اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ نے واٹمور اور فائونٹین کو اظہار تشکر کے طور پر پرفیومز پیش کیے، واٹمور نے کہا کہ میں خوشگوار یادیں لیے یہاں سے جا رہا ہوں، یقیناً پاکستان میں فیلڈ اور باہر کئی چیلنجز پیش آئے مگر ایسا ہر ملازمت میں ہوتا ہے۔

انھوں نے گذشتہ سیزن میں بھارت کو اس کی سرزمین پر2-1 سے ہرانے کو کیریئر کا اعلیٰ پوائنٹ قرار دیا، سری لنکا کیخلاف شارجہ ٹیسٹ کی فتح اور جنوبی افریقہ کو ہوم گرائونڈز پر ون ڈے سیریز ہرانے والی پہلی ایشیائی ٹیم کے اعزاز کو بھی وہ خاصی اہمیت دیتے ہیں، واٹمور نے کہا کہ مارچ2012میں عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایشیا کپ کی جیت بھی اہم رہی، انھوں نے گذشتہ برس انگلینڈ میں چیمپئنز ٹرافی کے گروپ مرحلے سے گرین شرٹس کے اخراج کو حد سے زیادہ مایوس کن قرار دیا۔ اس سوال پر کہ نئے کوچ کے حوالے سے کیا پی سی بی نے ان سے مشورہ لیا، واٹمور نے ناں میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں خود اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا۔