تیس منٹ بیٹھے رہنے کے بعد 3 منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش مفید ہے تحقیق

اکثر دفتروں میں ڈیسک ورکرز کو گھنٹوں تک مسلسل ایک ہی جگہ بیٹھ کر دفتری کام کرنا پڑتا ہے


ویب ڈیسک August 19, 2021
اکثر دفتروں میں ڈیسک ورکرز کو دورانِ ملازمت اپنی جگہ سے اٹھنے اور چلنے پھرنے کا بہت کم وقت ملتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

سویڈن کے طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دفتر میں پورا دن مسلسل بیٹھے رہنے کے بجائے ہر تیس منٹ بعد صرف تین منٹ کی چہل قدمی یا کوئی اور ہلکی پھلکی ورزش کرلی جائے تو یہ صحت کےلیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کے بیشتر دفتروں میں ''ڈیسک ورک'' کرنے والے کارکنان کو صبح سے شام تک اپنی جگہ سے اٹھنے اور چلنے پھرنے کےلیے بہت کم وقت مل پاتا ہے۔

طویل مدتی بنیاد پر اس معمول کا اِن کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور وہ موٹاپے سے لے کر امراضِ قلب اور ذیابیطس تک، کئی طرح کی بیماریوں کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔

اسی تناظر میں تین ہفتے تک جاری رہنے والی یہ تحقیق 16 رضاکاروں پر کی گئی جن میں 10 خواتین اور 6 مرد شامل تھے۔

ان میں سے نصف رضاکاروں نے روزانہ، صبح سے شام، دس گھنٹے کا دفتری معمول برقرار رکھا جس میں وہ اپنی جگہ سے بہت کم اٹھے۔ یہ طریقہ دنیا بھر کے دفتری ماحول میں عام ہے۔

باقی نصف رضاکاروں کو خصوصی گھڑیاں دی گئیں جو ہر 30 منٹ بعد یاد دلاتیں کہ انہیں تین منٹ کےلیے ہلکی پھلکی ورزش (تیز قدموں سے چلنا یا سیڑھیاں چڑھنا اور اترنا وغیرہ) کرنی ہے، جبکہ یہی گھڑیاں ان رضاکاروں میں جسمانی حرکت بھی ریکارڈ کرتی رہتیں۔

اس تحقیق کے نتائج ''اینڈوکرائنالوجی اینڈ میٹابولزم'' کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ہر 30 منٹ بعد صرف تین منٹ کی ہلکی پھلکی جسمانی مشقت/ ورزش کرنے والوں کے خون میں نہ صرف شکر (گلوکوز) کی مقدار کنٹرول میں رہی بلکہ ان میں ''میٹابولک سینڈروم'' ظاہر ہونے کے خطرات بھی قدرے کم ہوگئے۔

واضح رہے کہ ''میٹابولک سینڈروم'' پانچ علامات کا مجموعہ ہے جو بالترتیب خون میں گلوکوز کی زائد مقدار، خون میں مفید کولیسٹرول کی کمی، ٹرائی گلیسرائیڈ کہلانے والی چکنائیوں کی خون میں اضافی مقدار، پھیلی ہوئی کمر (موٹاپا) اور ہائی بلڈ پریشر ہیں۔

ان رضاکاروں میں انسولین کی کارکردگی بھی بہتر رہی جس کے باعث خون میں شکر پر کنٹرول بہتر رہا؛ اور اس طرح ان رضاکاروں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بھی کم ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آدھے گھنٹے بعد صرف تین منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش سے ہونے والے فوائد اگرچہ معمولی ہیں لیکن انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا خیال ہے کہ اگر دن میں وقفے وقفے سے کی جانے والی اس آسان ورزش یا جسمانی مشقت کا دورانیہ تین منٹ سے کچھ بڑھا دیا جائے تو یہی نتائج اور بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔

اس کےلیے وہ مزید تحقیق کی تیاری کررہے ہیں جو تین ہفتوں کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک جاری رہے گی جبکہ اس میں شریک رضاکاروں کی تعداد بھی زیادہ رکھی جائے گی۔

مقبول خبریں