رہن شدہ اثاثے فروخت کرنے پر پابندی برقرار

قانونی کارروائی کے بغیر رہن شدہ جائیدادوں کو بیچنے کے اختیار کے حوالے سے مالیاتی اداروں اور بینکوں کی 118اپیلیں مسترد


Staff Reporter January 30, 2014
18ویں آئینی ترمیم کے تحت شفاف ٹرائل کے متعلق آرٹیکل 10.Aکی عدالتی توثیق ، عدالت کے احکام سے بینکنگ قوانین میں بنیادی تبدیلی آئے گی

عدالت عظمیٰ نے رہن شدہ اثاثوں کی فروخت پر پابندی کیخلاف بینکوںکی 118اپیلیں مستردکرتے ہوئے مالیاتی اداروں کے قرضوں کی وصولیابی کے آرڈیننس مجریہ 2001 کی دفعہ 15کو غیر آئینی ،غیر قانونی اورکالعدم قرار دے دیا،دفعہ 15کے تحت بینکوں اورمالیاتی اداروں کو بغیر قانونی کارروائی کے رہن شدہ جائیدادوں کو بیچنے کا اختیار حاصل تھا ۔

118اپیلوںمیں سے 49نیشنل بینک ،27 ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، 10حبیب بینک کے علاوہ یو بی ایل ، ایم سی بی ،کے اے ایس بی ، الائیڈ بینک ، بینک آف پنجاب ، بینک آف خیبر، سونیری بینک ،اوریکس انویسٹمنٹ ، عارف حبیب بینک اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہیں ، بینکوںکی جانب سے رہن شدہ اثاثے مالیاتی اداروں کے قرضوں کی وصولیابی کے آرڈیننس مجریہ 2001کی دفعہ 15کے تحت فروخت کرنے کیخلاف بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جس میں اس قانون کو آئین پاکستان کی دفعہ 4اور 175سے متصادم قراردینے کی استدعا کی گئی تھی ، بلوچستان ہائیکورٹ نے اس درخواست پر27جولائی 2005 میں فیصلہ سنایا ، اسی طرح لاہور ہائیکورٹ میں بھی قرضوں کی وصولی کے اس قانون کیخلاف درخواست دائر کی گئی ،لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے 23دسمبر2008کو آئین کی دفعات 2،A،3،4،9،23،24،25 اور 175کے خلاف قراردیا ،بینکوں نے موقف اختیارکیاکہ قرضوں کی وصولی کے متعلق قانون کی دفعہ 15کے تحت اثاثے فروخت کرنے کے لیے شفافیت کے لیے اخبارات میں اشتہار دیے جاتے ہیں ، اگر اثاثوں کی فروخت پر کسی کو اعتراض ہوتو وہ بینکنگ کورٹس سے رجوع کرسکتا ہے ۔



مالیاتی ادارے نیلامی کے عمل کوشفاف بنانے کے لیے ہرممکن کوشش کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ بولی دینے والے کو اثاثے فروخت کیے جاتے ہیں ، اس کے علاوہ بینکنگ کورٹ بھی اعتراضات کا جائزہ لے سکتی ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے 52صفحات پر مشتمل فیصلے میںلکھا ہے کہ ہائیکورٹس نے دفعہ 15کو آئین کی مختلف دفعات سے متصادم قراردیا،اس کے ساتھ ساتھ قانون سازوں نے 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین پاکستان میں آرٹیکل 10.Aشامل کی جس کے تحت شفاف ٹرائل ہر شہری کا حق ہے اور مدعا علیہان کے وکلا نے یہ درست موقف اختیارکیا ہے کہ اس دفعہ کے تحت آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو استحکام حاصل ہوا ہے ،اس لیے اس سے پہلے جو قانون و قاعدے رائج تھے وہ غیرآئینی قرار پائیں گے ، بینکاری قوانین کے ماہر سالم سلام انصاری ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بینکاری قوانین اور آئینی تاریخ کا سنگ میل قراردیا ہے ۔