لاپتا افراد کیس میں انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے سپریم کورٹ

حکومت کی رپورٹ مسترد،مالاکنڈ سےلاپتاقیدیوں کےذمے داروں سےحکومت واقف ہے،9ماہ سے یاسین شاہ کا پتہ نہیں چل رہا، جسٹس جواد


Numainda Express January 30, 2014
حکومت کی رپورٹ مسترد،مالاکنڈ سےلاپتاقیدیوں کےذمے داروں سےحکومت واقف ہے،9ماہ سے یاسین شاہ کا پتہ نہیں چل رہا، جسٹس جواد۔ فوٹو: فائل

KARACHI: سپریم کورٹ نے ملاکنڈ سے لاپتہ قیدیوں کے بارے میں وفاقی حکومت کی رپورٹ مستردکرتے ہوئے مثبت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ انتہائی قدم اٹھانے پرمجبور نہ کیاجائے۔ 11فروری سے قبل رپورٹ داخل کی جائے کہ یک رکنی وفاقی کمیشن نے اب تک اس معاملے پرکتنے اجلاس کیے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وفاق اورخیبرپختونخوا حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ ملاکنڈ حراستی مرکز سے اٹھائے گئے قیدیوں کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا لطیف یوسفزئی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے انکوائری کمیٹی بنادی ہے جو7دن کے اندررپورٹ دے گی کہ یہ لوگ کس نے کس کے حوالے کیے۔ ذمے داروں کا تعین ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

کوتاہی اس لیے ہوئی کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی ہدایت پر چل رہی تھی۔ جسٹس جوادنے کہاکہ یہ انسانی حقوق کامسئلہ ہے۔ حکومت کارروائی کرکے کسی پراحسان نہیں کرے گی۔ فاضل جج نے کہاکہ وفاق اپنی جگہ اورصوبہ اپنی جگہ خودمختار ہے۔ عدالت نے قراردیا کہ ملاکنڈحراستی مرکز سے اٹھائے گئے قیدیوںکے ذمے داروںسے حکومت آگاہ ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی حقوق کامسئلہ پیداہو توان حالات میں آئین کااطلاق عدالت کی ذمے داری ہے۔ وفاقی اورصوبائی حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے میں کچھ نہیں کیاتو عدالت انتہائی قدم اٹھانے پرمجبور ہوگی اورعدالتی تحمل کامظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔