رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ بمبار کی انگلیاں مسخ شناخت نہ ہوسکی

حملہ آور کے چہرے کی سرجری کے بعد اس کی شکل واضح ہوسکے گی، پولیس افسر


Staff Reporter January 31, 2014
دہشت گردوں کی جانب سے ناظم آباد 7 نمبر پل کے نیچے 2 دھماکوں کا مقصد رینجرز اور پولیس کو ان مقامات پر الجھاکر ہیڈکوارٹرکو تباہ کرنا تھا،ذرائع۔فوٹو:راشداجمیری/ایکسپریس،فائل

نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے میں ہلاک ہونیوالے بمبار کے اعضا کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے لیبارٹری روانہ کر دیے گئے۔

حملہ آورکے ہاتھ کی انگلیاں دھماکے کی وجہ سے شدید متاثر ہیں جس کے باعث فنگر پرنٹس نہیں لیے جاسکے، پولیس نے بم دھماکوں کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیے ،سی آئی ڈی کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ فنانشنل کرائم سول لائن کے سربراہ راجہ عمر خطاب نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کو نارتھ ناظم آباد بلاک بی میں رینجرز ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے بمبار کی شناخت نہیں ہوسکی،دھماکے کے بعد جائے وقوع سے ملنے والے انسانی اعضا میں ایک ہاتھ بھی شامل تھااس کی انگلیاں شدید متاثر ہیں،انگلیوں کی مدد سے فنگر پرنٹس حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی ،اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

 photo 2_zpsb9905eef.jpg

خودکش بمبار کے اعضا کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے لیبارٹری روانہ کر دیے گئے،راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ دھماکے میں استعمال کیے جانے والے بارود کے بھی نمونے حاصل کرنے کے بعد اس کی ساخت کا پتہ چلانے کیلیے اسلام آباد لیبارٹری روانہ کردیے گئے ہیں جس کی رپورٹ آنے میں 10 سے 12 دن لگ سکتے ہیں ، خودکش بمبار کے چہرے کی سرجری کے بعد اس کی شکل واضح ہوسکے گی،اس حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں ،پولیس ذرائع کاکہنا ہے کہ بدھ کو ناظم آباد 7 نمبر پل کے نیچے رینجرز کو نصب شدہ بم دھماکوں کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کے واقعات گزشتہ دنوں نصرت بھٹو کالونی موڑ ، لسبیلہ پل اور اورنگی ٹاؤن میں نصب کیے جانے والے بم دھماکوں سے مماثلت رکھتے ہیں ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے ناظم آباد 7 نمبر پل کے نیچے 2 دھماکوں کا مقصد رینجرز اور پولیس کو ان مقامات پر الجھانے کی کوشش تھی تاکہ خودکش بمبار اپنے اصل ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں،رینجرز کے سب انسپکٹر ، سپاہی اور سیکیورٹی گارڈ نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر خودکش حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔