2 پولیس اہلکاروں کے قاتل فیصل محسود کو سزائے موت کا حکم

مقتولین کے ورثا کو فی کس ایک لاکھ روپے بطورہرجانہ ادا کرنے کی ہدایت،غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر مزید7برس قید


Staff Reporter February 01, 2014
شاہ فیصل اور یاسین نے ہیڈ کانسٹیبل ندیم عباسی اورمحمد ساجد کو اغوا کے بعد قتل کیاتھا، یاسین تھانے سے فرار ہوگیاتھا۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 2 پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث شاہ فیصل محسود کوجرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم دیا ہے اور مقتولین کے ورثا کو فی کس ایک لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیاجبکہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر مزید 7برس قیدکی سزا کا بھی حکم دیا۔

استغاثہ کے مطابق 3فروری 2012 کو شاہ فیصل محسود اور یاسین محسود نے تیموریہ تھانے کے ہیڈ کانسٹیبل ندیم عباسی اور پولیس کانسٹیبل محمد ساجد کو اغوا کرکے تھانہ منگھوپیر کی حدود میں فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا ،سی آئی ڈی نے کارروائی کرکے 6مارچ 2012 کو ملزم یاسین محسود کو گرفتار کیا تھا،2جولائی کو شاہ فیصل محسود کو گرفتار کیا تھا اور تیموریہ تھانے منتقل کردیا تھا ،مبینہ طور پر ملزم یاسین محسودتھانے سے فرار ہوگیا تھا ،عدالت مفرور ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے اسے اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

 photo 3_zps35f50200.jpg

دریں اثنا اسسٹنٹ ایڈ یشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی ثروت سلطانہ نے ڈکیتی کے مقدمے میں ملوث ملزم عمران کو جرم ثابت ہونے پر 5 برس قید 30ہزار روپے جرمانہ اورعدم ادائیگی جرمانے پر مزید ایک ماہ قید کا بھی حکم دیا، استغاثہ کے مطابق 26جولائی 2012 کو ملزم نے دیگر ساتھیوں کی مدد سے گھر میں داخل ہوکر لوٹ مار کی جس میں طلائی زیورات ، موبائل ، گھڑیاں ، ایک سی ڈی اور دیگر سامان لوٹ لیا،مقدمے میں ملزم کا ساتھی یوسف و دیگر کو مفرور ظاہر کیا گیا ہے ، جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وسیم احمد نے چیک باؤنس کے مقدمے میں ملوث ملزم عبدالمتین کو جرم ثابت ہوجانے پر 2سال قید کا حکم دیا،عدالت نے ملزم کے دیگر4بیٹوں عبدالوسیم ، عبدالعظیم ، عبدالنعیم اور اسماعیل کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔