انڈرانوائسنگ روکنے کے لئے مانیٹرنگ نظام نافذ کرنے کی منظوری

18ویں ترمیم کے تحت سروسز پر ٹیکس صوبوں کو منتقل ہوچکا ہے لیکن اسلام آباد میں ٹیکس وصولی ایف بی آر کا اختیار ہے


Irshad Ansari February 02, 2014
مانیٹرنگ نظام کے تحت نظام کے تحت ریسٹورنٹس کے لئے الیکٹرونکس انوائسز کے اجرا کو لازمی قرار دیا جائےگا فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے کراچی اور لاہور سمیت بیرون ممالک ہیڈ آفسز رکھنے والے وفاقی دارالحکومت میں قائم سروسز فراہم کرنیوالی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس و فرنچائزز سے اسلام آباد میں ہی ٹیکس وصولی کا فیصلہ کیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ملک بھر میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں انڈر انوائسنگ روکنے کے لئے ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم (آر آئی ایم ایس) متعارف کروانے کے لئے سافٹ ویئر کی تیاری کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے ہونیوالے اجلاس میں بتایا گیا کہ آئین پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد ایسے تمام بڑے بڑے ہوٹل و ریسٹورنٹس اور فرنچائزز جن کے ہیڈ آفسز کراچی، لاہور، کوئٹہ یا ملک کے دوسرے شہروں میں ہیں اور ایسے ملٹی نیشنل ہوٹل و ریسٹورنٹس جن کے ہیڈ آفس بیرون ممالک میں ہیں، انکی جو بھی فرنچائزز اسلام آباد میں قائم ہیں، انہیں اسلام آباد میں ہی ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے تحت سروسز پر ٹیکس صوبوں کو منتقل ہوچکا ہے لیکن جو سروسز اسلام آباد میں فراہم کی جارہی ہیں ان پر ٹیکس وصولی ایف بی آر کا اختیار ہے۔ اسلام آباد میں قائم تمام فرنچائزز اور ملٹی نیشنل و نیشنل ہوٹلوں و ریسٹورنٹس سے آر ٹی او اسلام آباد کی طرف سے ہی ٹیکس وصولی کی جائے گی اور یہ جواز کسی طور پر قابل قبول نہیں ہوگا کہ انکے ہیڈ آفسزدوسرے صوبے میں ہیں اور اس متعلقہ صوبے میں ہیڈ آفس کے ذریعے ٹیکس جمع ہوگا۔ دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ ایف بی آر نے وفاقی دارالحکومت میں واقع چائے خانہ، کلے اوون کیٹرنگ سروسز، دیس پردیس، لا مونٹانہ ریسٹورنٹس، پاپا سالس کوزین، کیم مون چائنیز ریسٹورنٹس، کھیوہ، ہینگ چینگ انٹرپرائزز، چائنہ ٹاون، 1969 ریسٹورنٹ، ہوٹل حبیبی، اسٹریٹ ون کیفے، ٹیبل ٹاک، جہانگیر بالٹی اینڈ بار بی کیو، عُثمانیہ ریسٹورنٹس، موکا کافی، ٹی زیڈ آر (ایس ایم سی پرائیویٹ لمیٹڈ)، تہذیب فُوڈ آرٹ اینڈ ڈیزائنر ویئر، فوڈیز ٹسکینے اور کے سی گرل پر مشتمل20 مہنگے ترین اور معروف ریسٹورنٹس میں ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم (آر آئی ایم ایس) نافذ کرنیکا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبوں میں ہوٹلوں و ریسٹورنٹس میں انڈر انوائسنگ روکنے کے لئے ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم(آر آئی ایم ایس)متعارف کروانیکا فیصلہ کیا ہے، جسکے تحت ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم کے ہیڈ آفس کو الیکٹرانیکلی براہ راست ریسٹورنٹس کے ساتھ لنک کیا جائیگا۔




اس ضمن میں ،،ایکسپریس،،کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ماتحت ادارے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ(پرال)کی طرف سے یہ سسٹم تیار کیا جارہا ہے اور ابتدائی طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے وفاق میں اسکا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائیگا۔ اس کے بعد اس سسٹم کو صوبوں کو منتقل کردیاجائیگا کیونکہ ریسٹورنٹس و دیگر سروسز صوبوں کو منتقل ہوچکی ہے۔ پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم(آر آئی ایم ایس) پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)کے حوالے کیاجائیگا اور اس سسٹم کے ذریعے ریسٹورنٹس کا ریئل ٹائم بنیادوں پر ڈیٹا حاصل ہوسکے گا اور اسکی مانیٹرنگ بھی کی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ نئے نظام کے تحت ریسٹورنٹس کی سیل کا موازنہ بھی کیا جاسکے گا۔ دستاویز کے مطابق اس نظام کے تحت ریسٹورنٹ سیکٹر سے ٹیکس چوری کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی طور پرپائلٹ پراجیکٹ کے تحت بیس ریسٹورنٹس میں یہ سسٹم نصب کیا جائیگا اور ان بیس ریسٹورنٹس کے انتخاب کے لئے کام جاری ہے اور جلد ان بیس ریسٹورنٹس کی نشاندہی کرکے ایف بی آر سے منظوری لی جائیگی جس کے بعد ان ریسٹورنٹس میں یہ سسٹم لاگو کیا جائیگا۔

اس نظام کے تحت ریسٹورنٹس کے لئے الیکٹرونکس انوائسز کے اجرا کو لازمی قرار دیا جائےگا۔ تاہم یہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ اس نظام کے تحت ان ریسٹورنٹس کے لئے ڈپارٹمنٹس کی طرف سے خاص قسم کی خصوصیات اور سسٹم کی حامل کیش مشینیں تیار کرواکر نصب کی جائیں یا ان ریسٹورنٹس میں پہلے سے ہی نصب کیش مشینوں کو اپ ڈیٹ کرکے ریسٹورنٹس انوائس مانیٹرنگ سافٹ ویئر کے ساتھ لنگ کردیا جائے۔ اس نظام کے تحت ریسٹورنٹس کی سیل کو مانیٹر کیا جاسکے گا اور انڈر انوائسنگ روکنے میں مدد ملے گی جس کے لئے وفاقی حکومت نے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ٹیکس چوری اور انڈر انوائسنگ روکنے کے لئے وفاقی دارالحکومت کے 20 ریسٹورنٹس میں ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم (آر آئی ایم ایس)نافذ کرنیکی منظوری دیدی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ ون زون تھری آر ٹی او اسلام آباد نے 20 بڑے ریسٹورنٹس کی فہرست تیار کرکے ایف بی آر کو بھجوادی ہے، جہاں یہ ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم (آر آئی ایم ایس)نافذ کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت میں قائم ملٹی نیشنل ہوٹلوں و ریسٹورنٹس کی فرنچائزز و برانچز میں میں بھی یہ سسٹم نافذ کیا جائیگا۔