پاک امریکا تعلقات کی نئی جہتیں

پاک امریکا تعلقات کی نئی جہتیں


Editorial July 09, 2012

اتوار کو جاپان کے شہر ٹوکیو میں افغانستان سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی سائیڈلائن پر وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ان کی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن کے مابین ملاقات میں پاکستان اور امریکا نے باہمی تعلقات کو نئے خطوط پر استوار کرنے اور مفاہمت بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ملاقات کئی ماہ تک جاری رہنے والے پاک امریکا تعلقات میں تنائو کے بعد ایک خوش گوار تبدیلی ہے جو یقینی طور پر پاکستان کی جانب سے نیٹو فورسز کی سپلائی لائن کھولنے کا نتیجہ ہے تاہم امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے جو وعدے کیے گئے ہیں اگر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنا لیا گیا تو اس پیش رفت کو مزید خوش آیند بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ اسے امداد یا فرقہ نہ دیا جائے بلکہ اس کے لیے تجارت کے مواقع بڑھائے جائیں۔ یہ بات خوش آیند ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کے مسائل کا ادراک اور احساس کرتے ہوئے یورپی یونین نے اس کے لیے تجارت کے خصوصی کوٹے کا اعلان کیا ہے امید ہے جس پر جلد عمل درآمد شروع ہو جائے گا اور جس کے ہماری معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا ضروری ہے کہ اگر امریکا پاکستان کی مشکلات کو سمجھنے لگا ہے تو اپنی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے جگہ پیدا کرے کیونکہ امداد کی جگہ تجارت بڑھانے کا فارمولہ ہمارے ملک کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو گا۔ ملاقات کے بعد حنا ربانی کھر نے بتایا کہ ڈرون حملوں سمیت تمام مسائل پر بات کی گئی ہے، امریکا نے محسوس کر لیا ہے کہ پاکستان کو ماضی میں نظرانداز کرنے کی وجہ سے فاصلے بڑھے۔

اگر واقعی ڈرون حملوں سمیت سبھی مسائل کو زیر غور لایا گیا ہے تو ان حملوں کی شدت میں اب کچھ کمی آنی چاہیے۔ اسی طرح اگر امریکی انتظامیہ کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ ماضی میں نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے پاکستان اور امریکا کے مابین فاصلے بڑھے تو اب کوشش کی جانی چاہیے کہ ماضی جیسی صورتحال پیدا نہ ہو یعنی پاکستان کو نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اس کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ کہنا کسی حد تک درست ہو سکتا ہے کہ کئی مواقع پر پاک امریکا تعلقات مشکلات سے دوچار رہ سکتے ہیں تاہم یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ ایسے کسی حالات کی ذمے دار ماضی میں امریکی حکومت بنتی رہی ہے' مستقبل میں بھی وہی ہو گی اور اس کے کچھ آثار ابھی سے واضح ہونا شروع ہو سکے ہیں کیونکہ امریکی وزیر خارجہ کا یہ کہنا غالباً شمالی وزیرستان میں کارروائی کی جانب اشارہ ہے کہ ہم نے مشکلات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور آنے والے چیلنجوں کا سامنا کریں گے، ان میں سب سے اہم ان عسکری گروپوں کے خلاف جنگ ہے جو پاکستان کو امریکی فوجیوں پر حملے کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا خطہ اور تمام دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک دہشتگردی اور انتہاپسندی کا مسئلہ برقرار ہے جسے افغانستان کی سرحدوں سے آگے خطے کے بعض علاقوں میں پناہ گاہیں اور حمایت حاصل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اور افغان صدر ایسی باتیں کرتے ہوئے حقائق کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں جو یہ ہیں کہ افغانستان میں موجود انتہا پسند اور دہشت گرد سرحد پار کر کے پاکستانی علاقوں میں مسائل کا باعث بن رہ ہیں جس کی تازہ مثال گزشتہ ہفتوں میں ان انتہا پسندوں کی کارروائیاں ہیں جن میں کئی پاکستانی فوجی اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا، گزشتہ روز پنجاب کے شہر وزیر آباد کے قریب ایک آرمی کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں سات فوجی اور ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہونے کی اطلاع ہے اور جس کی دوسری مثال افغانستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کی وارداتیں ہیں چنانچہ یہ طے ہے کہ جب تک افغانستان کے اندر حالات کو کنٹرول نہیں کیا جائے گا اس وقت تک اس خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ صدر حامد کرزئی کو بھی ان حقائق کا وقت رہتے ادراک کرنا چاہیے۔ ایک اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے اب تک کے دس گیارہ برسوں کے دوران افغانستان کو عالمی برادری کی جانب سے کئی بار امداد فراہم کی جا چکی ہے جو زیادہ تر وہاں جاری کرپشن کی نذر ہو جاتی ہے چنانچہ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جو انتظامیہ کرپشن پر قابو نہ پا سکے وہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو کیسے کنٹرول کر سکتی ہے۔ افغانستان کو امداد ضرور فراہم کی جانی چاہیے کہ اس جنگ زدہ ملک کو اس کی اشد ضرورت ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہاں کے حالات میں بہتری بھی لائی جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو جلد از جلد اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستانی و امریکی وزرائے خارجہ نے بعد ازاں افغان وزیر خارجہ زلمے رسول سے بھی ملاقات کی جس میں تینوں رہنمائوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام، پاکستان، امریکا اور عالمی برادری کی قربانیوں اور کوششوں سے خطے میں القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کو ختم کیا گیا ہے۔ دریں اثناء وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا' اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور جاپان، جرمنی و آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں اہم معاملات پر بات چیت ہوئی