تحقیقات کیلیے 5 رکنی ٹیم تشکیل دیدی گئی ڈی ایس ریلوے

ٹریک آج دوپہر تک کلیئر ہوسکے گا،مسافروں کو ہر ممکن سہولتیں دیں گے،مقصودالنبی


Staff Reporter February 05, 2014
گھگھر پھاٹک پر دھماکے کے بعد سیکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر الرٹ کھڑے ہیں۔فوٹو:محمد نعمان/ایکسپریس

ڈی ایس ریلوے مقصود النبی نے کہا ہے کہ گھگھر پھاٹک کے قریب دہشت گردی کا نشانہ بنائی جانے والی شالیمار ایکسپریس (نائٹ کوچ) کے مسافروں کو کراچی لاکر دیگر ٹرینوں سے ان کی منزل پر پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ریلوے کی ایک 5 رکنی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔

ریلوے ٹریک کو (آج) دوپہر تک کلیئر کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ حادثے کی وجوہ کے بارے میں فوری طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ حادثے کی شکار شالیمار ایکسپریس ٹو کے مسافروں کو 4 بوگیوں کی مدد سے کراچی کینٹ اسٹیشن پر پہنچایا گیا ہے جہاں جو مسافر سفر کرنا چاہیں گے ان کو دیگر ٹرینوں کے ذریعے روانہ کر دیا جائے گا ۔جو مسافر سفر نہ کرنا چاہیں ان کو ٹکٹ کی رقم واپس کر دی جائے گی۔ دوسری جانب شالیما رایکسپریس کراچی کے منیجر حاکم نے بتایا کہ مسافروں کے لئے جائے وقوعہ پر اور کینٹ اسٹیشن پر کھانے پینے اور میڈکل کی سہولت پہنچانے کے لیے انتظامات کردیے گئے ہیں اور مسافروں کر ہر طرح سے خیال رکھا جائے گا۔

 photo 4_zpsd79deee9.jpg

دوسری جانب دھماکے کے بعد ٹرینوں کا آپریشن متاثر ہوگیا اور ریلوے حکام نے کراچی سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینوں کو کینٹ اور لانڈھی اسٹیشن پر روک لیا ، حادثے کے بعد روانگی میں تاخیر ہونے پر کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر مسافروں کی جانب سے شدید احتجاج اور ریلوے حکام کے خلاف نعرے بازی کی گئی ،علاوہ ازیں ریلوے ڈویژنل کمرشل آفیسر شعیب عادل نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تباہ ہونے والے ریلوے ٹریک کو رات 2 سے 3 بجے تک درست کر دیا جائے گا جس کے بعد ٹرینوں کی روانگی معمول کے مطابق شروع ہو جائیں گی جبکہ دہشت گردی کا نشانہ بنائی جانے والی شالیمار ایکسپریس کے مسافروں کو بھی دوسری ٹرین کے ذریعے ان کی منزل مقصود کے لیے روانہ کر دیا جائے گا تاہم تاریکی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ ٹریک کی مرمت کے لیے عملہ اور دیگر سامان پہنچ گیا اور کام شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ریلوے پولیس کے ساتھ ڈسٹرکٹ پولیس کو بھی مذکورہ مقام پر تعینات کر دیا گیا ہے ، انھوں نے بتایا کہ جن مسافروں کو سفر نہیں کرنا ہے انھیں ٹکٹ کی پوری رقم واپس کر دی گئی ہے اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔