اب سڑک پر چلنے والی تمام کاروں کی اسکرین سے اپنا راستہ دیکھیں

باہم منسلک کاروں کی وجہ سے ایکسرے انداز میں پوشیدہ رکاوٹیں بھی نظر آسکتی ہیں


ویب ڈیسک November 03, 2021
آسٹریلیا کے ماہرین نے ٹریفک اسٹیشن اور اطراف کی کاروں کے ڈیٹا اور معلومات کو ایک جگہ دکھانے والا نظام بنایا ہے جو ایک روڈ سے بڑھ کر پوری اطراف کا منظر دکھاسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ کوہڈا وائرلیس کمپنی

مختلف کاروں سے حاصل ہونے والی معلومات اور ڈیٹا کو دیکھتے ہوئے اب مصروف شہروں اور تیزرفتار شاہراہوں پر کار کو بہت محفوظ انداز میں دوڑایا جاسکتا ہے۔

اس عمل کو 'کلیکٹو پرسیپشن' یا سی پی کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ پورا سسٹم اطراف میں پوشیدہ خطرات، پیدل چلنے والے لوگوں اور خود بڑی بس کا رستہ کاٹ کر آنے والی کار بھی دکھا سکتا ہے۔ تاہم اسے تجرباتی طور پر آزمایا جارہا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی اور کوہڈا وائرلیس نامی کمپنی نے آئی موو کوآپریشن ریسرچ سینٹرکے اشتراک سے یہ پورا نظام بنایا ہے جس میں وہیکل ٹو وہیکل (وی ٹو وی) اور وہیکل ٹو انفراسٹرکچر (وی ٹو آئی) رابطوں پر کام کرتی ہے۔ اس پورے نظام میں گاڑیاں ایک دوسرے کو اپنے اطراف کے ماحول اور خطرات سے خبردار کرتی رہتی ہیں بلکہ سڑکوں پر لگے کیمرے بھی منظرکووسیع کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس طرح اطراف کے راستوں کا ڈیٹا آپ کا کار تک آتا ہے جہاں چوراہے کی ہر سمت میں کاریں دوڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ لیڈار اور کیمرے کی تفصیلات روڈ پر لگے اسٹیشنز (انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹمز) کی معلومات بھی شامل ہوتی رہتی ہیں۔

اب اگر کوئی کار یا اسٹیشن کسی پیدل چلنے والے یا کار کو دیکھتا ہے جو کسی اور رکاوٹ کے پیچھے ہو تو اس کا اظہار ایکس رے جیسے ڈسپلے سے ہوا ہے اور یوں چھپے ہوئے خطرے سےفوری آگہی ملتی ہے۔ اب اگر ڈرائیور کچھ نہیں کرتا تو کار کا اپنا سسٹم ازخود بریک دبا دیتا ہے۔

جب اسے ایک کنٹرولڈ ماحول میں آزمایا گیا تو پورے نظام نے بہت کامیابی سے پوشیدہ رکاوٹوں کی شناخت کی اورایسے کئی حادثات روکنے میں مدد دی جو عام حالت میں جان لیوا بھی ہوسکتے تھے۔

یہ پورا نظام نہ صرف چوراہوں میں اطراف سے آنے والی کاروں اور دیگرسواریوں سے خبردار کرتا ہے بلکہ عمارت کی پارکنگ سے تیزی آتی کار کو بھی نوٹ کرتا ہے۔

منصوبے سے وابستہ پروفیسر ایڈوارڈو نیبوٹ کے مطابق یہ سسٹم نہ صرف انسانی بلکہ ازخود چلنے والے کاروں کے لیے بھی یکساں طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں