افغان حکمرانوں کے لیے امتحان کی گھڑی

نیٹوافواج کے انخلا کے بعد ملک میں ایک پائیدار اور مستحکم حکومت کا قیام اہم ترین سوال ہے


Editorial February 06, 2014
نیٹوافواج کے انخلا کے بعد ملک میں ایک پائیدار اور مستحکم حکومت کا قیام اہم ترین سوال ہے. فوٹو: فائل

رواں سال خطے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں ،افغانستان سے امریکی اور نیٹوافواج کے انخلا کے بعد ملک میں ایک پائیدار اور مستحکم حکومت کا قیام اہم ترین سوال ہے۔ اس سوال کا مثبت جواب اور حل تلاش نہ کیا گیا تو ماضی کی طرح ایک بار پھر افغانستان میں جنگجوگروہوں کے درمیان لڑائی سے خانہ جنگی والی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات خارج از امکان نہیں ۔اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے نیٹوکے سیکریٹری جنرل اینڈرز فوگ راسموسین کا کہنا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کر کے 'آگ سے کھیل رہے ہیں'' ان کی بی بی سی سے گفتگو کا لب لباب تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے ڈھیروں قربانیاں دینے کے بعد نیٹو ممالک افغان حکومت سے اظہار تشکرکی امید رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ماہ اپریل کے پہلے ہفتے میں افغانستان میں صدارتی انتخاب کے لیے انتخابی مہم بھی چل رہی ہے امریکی ذرایع ابلاغ کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی طالبان سے خفیہ طور پر رابطے کررہے ہیں اسی بناء پر انھوں نے سیکیورٹی معاہدے پر دستخط بھی نہیں کیے ہیں ۔حالانکہ افغان لویا جرگے نے گزشتہ برس امریکا سے معاہدے کی منظوری دی تھی جس کے تحت رواں برس افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں رہ سکے گی، انخلا کے بعد افغانستان میں قومی سیکیورٹی فورسز کی استعداد کا امتحان ہوگا کہ کیا وہ وار لارڈز کو دوبارہ ابھرنے سے روک پائیں گے، پاکستان ،افغانستان کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہونے والا ملک ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں ملک امن ہو اور وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو دراندازی کرنے والے غیر ریاستی عناصرکا خاتمہ کرسکے۔ عالمی قوتوں سمیت پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لہذا افغان صدر کو ایسا فیصلہ کرنا چاہیے جس کے دوررس اثرات مرتب ہوں ، لہٰذا نیٹو اور امریکی ممکنہ تعاون یقیناً افغانستان میں قیام امن اور خطے میں ترقی وخوشحالی کا پیغام لے کرآئے گا۔ یہی وقت ہے درست فیصلے کرنے کا جو افغانستان کی قیادت کی فہم وفراست کا امتحان بھی ہے ۔