خواتین پر تشدد کے بارے میں فن پاروں کی نمائش Test Link

عورتوں کے خلاف متشدد مزاج بدلنے کےلیے ہمیں اپنے بچوں کو چھوٹی عمر ہی سے تعلیم و تربیت دینا ہوگی


ویب ڈیسک October 15, 2021
پینل ڈسکشن کے شرکاء کا گروپ فوٹو: نسرین قصوری، سلیمہ ہاشمی، منیزے جہانگیر، ڈاکٹر لارنس برک اور ایمان علی قصوری۔ (فوٹو: منتظمین)

LOS ANGELES: خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کےلیے 'ایمبیئنس بوتیک آرٹ ہوٹل' لاہور میں 'ڈاٹرز آف ڈیفائنس' (جرأت مند بیٹیاں) کے عنوان سے آرٹ کی نمائش منعقد ہوئی۔

متاثر کن آرٹسٹ ایمان علی قصوری کے زیرِ انتظام منعقد ہونے والی اس نمائش کا مقصد پینٹنگ، فوٹوگرافی اور مجسمہ سازی سمیت، اظہارِ فن کے مختلف انداز اور آرٹ میڈیمز کے ذریعے خواتین پر ہونے والے تشدد کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔

اس موقع پر ایک پینل ڈسکشن بھی ہوا جس میں بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کی بانی اور چیئر پرسن نسرین قصوری؛ سابق ڈین، اسکول آف وژول آرٹس اینڈ ڈیزائن، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، سلیمہ ہاشمی؛ معروف براڈکاسٹ صحافی، منیزے جہانگیر؛ اور چیف ایجوکیشن ایڈوائزر بیکن ہاؤس، ڈاکٹر لارنس برک شریک ہوئے جبکہ میزبان/ ماڈریٹر کے فرائض ایمان علی قصوری اور تبسم مرزا نے انجام دیئے۔

مذکورہ تبادلہ خیال کے دوران اہم سماجی مسائل بالخصوص خواتین کے خلاف جارحیت، بشمول ہراسانی، مارپیٹ اور نفسیاتی و جسمانی تشدد کی سنگینی اجاگر کرنے میں آرٹ کے کردار پر گفتگو کی گئی۔

مقررین نے زور دیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر پاکستانیوں کو، من حیث القوم، اپنی اجتماعی سوچ پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔



ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی لانے کےلیے ہمیں اپنے بچوں کو چھوٹی عمر ہی سے باہمی احترام اور شراکت کی تعلیم اور تربیت دینی چاہیے۔ علاوہ ازیں، اس تبادلہ خیال میں خواتین کے تحفظ سے متعلق قانون سازی اور ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔

مزید برأں، ڈسکشن پینل کے شرکاء نے کہا کہ زیادتی کا شکار بننے والی خواتین کو موردِ الزام ٹھہرانے کا خطرناک رجحان بڑھ رہا ہے جو تشویش ناک امر ہے۔

یہ روِش ہمارے معاشرے کو تقسیم کرتے ہوئے اسے غلط سمت میں لے جارہی ہے، جس کی وجہ سے مظالم کا شکار بننے والی خواتین بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو رپورٹ کرنے سے کتراتی ہیں کیونکہ ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اس سے معاشرے میں عدم برداشت کا کلچر مزید پروان چڑھتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہورہا ہے جو پہلے ہی ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل جینڈر گیپ 2021 انڈیکس کے 156 ممالک میں 153 ویں نمبر پر ہے۔

نوجوان آرٹ کیوریٹر ایمان علی قصوری نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان تمام آرٹسٹس کو سراہا جنہوں نے اپنے فن پاروں کے ذریعے اپنا اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھ کر انہیں حقوقِ نسواں کےلیے لڑنے کا حوصلہ اور ہمت ملی ہے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کی پامالی کو ایک قومی سانحہ اور صدمہ قرار دیتے ہوئے اس بارے میں درست انداز سے بحث کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وہ خواتین کے مسائل کی آگاہی میں اضافہ کرنے کےلیے اپنی کوششیں جاری رکھنا چاہتی ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں خواتین کےلیے محفوظ اور شمولیت پر مبنی ماحول کی امید رکھتی ہیں۔

مقبول خبریں