آئی ایم ایف سے پالیسی سطح کے مذاکرات کل شروع ہونگے

پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی طرف سے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو پاور سیکٹر اور گیس کے شعبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی


Irshad Ansari February 06, 2014
پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی طرف سے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو پاور سیکٹر اور گیس کے شعبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فوٹو:فائل

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان دبئی میں جاری مذاکرات میں پالیسی سطح کے مذاکرات کا دور جمعہ سے شروع ہوگا۔

جبکہ گزشتہ روز مذاکرات کے پانچویں دور میں پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی طرف سے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو پاور سیکٹر اور گیس کے شعبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی ٹیم نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ بجلی پر دی جانے والی غیر ضروری سبسڈی بتدریج ختم کی جارہی ہے اور پہلے مرحلے میں سبسڈی میں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے اور اب دوسرے مرحلے میں بجلی پر دی جانے والی سبسڈی میں مزید کمی کی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن کو بتایا گیا کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو آپریشنل بنادیا گیا ہے جس کے لیے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی سے الگ کرنے کے لیے پراسیس جاری ہے جس کے تحت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا اسٹاف بھی الگ سے ہوگا جبکہ سی پی پی اے رولز و گائیڈ لائن بھی تیار کی جارہی ہے جسے جلد حتمی شکل دیدی جائے گی ۔

جس کے بعد سی سی پی اے کا پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم متعارف کرادیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کو بتایا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بھی جلد متوقع ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے مطابق حکومت کی طرف سے نئے پاکستان انرجی اینڈ کنزرویشن ایکٹ کا مسودہ بھی تیاری کے آخری مراحل میں ہے جسے حتمی شکل دے کرجلد مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کردیا جائے گا، اس کے علاوہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے اوگرا نے گیس کمپنیوں کی درخواستوں کی سماعت مکمل کرلی ہے اور جلد اوگرا کی طرف سے فیصلہ دے دیا جائے گا ۔



جس کے بعد گیس کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتایا گیا کہ پہلی ششماہی کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف کے مطابق ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں بلکہ یہ وصولیاں ہدف سے بھی 3ارب روپے زیادہ ہیں،ہدف کے مطابق 1028 ارب روپے کی وصولیاں کرنا تھیں۔

جبکہ 1031.42ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی گئی ہیں، اسی طرح مالیاتی خسارے سمیت دیگر اقتصادی اشاریے بھی تسلی بخش ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے لیے بھی کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، 3 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے 60 ہزار کے قریب لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، مارچ 2014 تک انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 114 کے تحت75 ہزار لوگوں کو نوٹس جاری کردیے جائیں۔

اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے مارچ 2014 تک 6 سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے فنانشل ایڈوائزرز تعینات کرنے کے حوالے سے بھی پراسیس جاری ہے اور توقع ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے جلد فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کر دی جائے گی، اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے کیلئے قوانین میں ترامیم کے لیے بھی مسودہ جلد پارلیمنٹ سے منظور کرالیا جائے گا جبکہ ستمبر 2014 کے آخر تک ڈپازٹ پروٹیکشن فنڈ ایکٹ کا مسودہ بھی تیار کرلیا جائیگا، دسمبر 2014 کے آخر تک سیکیورٹیز بل کا مسودہ بھی متعارف کرادیا جائے گا، غیرضروری ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے لیے پلان نہ صرف تیار ہے بلکہ اسکی وزارت خزانہ نے منظوری بھی دیدی ہے۔