کراچیریلوے ٹریک آج بحال ہونے کا امکان بم دھماکوں کا مقدمہ درج

ٹرینوں کی آمد ورفت کیلیےڈائون ٹریک استعمال کیاجارہا ہے،کراچی کےتمام ریلوےاسٹیشنوں اورتنصیبات پر سیکیورٹی سخت کردی گئی


Staff Reporter February 06, 2014
کراچی:گھگھر پاٹک کے قریب دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونیوالی ٹرین کو کرین سے اٹھایاجارہاہے۔ فوٹو: پی پی آئی

لاہور: گھگھر پھاٹک پر ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کے بعد ریلوے ٹریک پر ٹرینوں کی آمد ورفت آج (جمعرات کو) بحال ہونے کا امکان ہے، بم دھماکوں کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

کراچی کے قریب حادثے کا شکار ہونیوالی شالیمار ایکسپریس ٹو (نائٹ کوچ)کی تحقیقات کیلیے آئی جی ریلوے پولیس سید ابن حسین آج (جمعرات) کو کراچی پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے علاوہ ٹرین کے عملے اور اس کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم سے ملاقات کریں گے جبکہ حادثے کو24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود اپ ٹریک بحال نہیں کیا جاسکا، ٹریک جمعرات کو بحال کیا جاسکے گا،جائے وقوعہ پر رات گئے تک مرمت کاکام جاری تھا۔ نجی ٹرین شالیمار کی انتظامیہ نے متاثرہ مسافروں کواسپیشل ٹرین کے ذریعے روانہ کردیا۔ اس حوالے سے ایس ایس پی ریلوے رابن یامین کے مطابق ریلوے پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیاہے دھماکے کے بعد کراچی کے کینٹ اسٹیشن، سٹی ریلوے اسٹیشن، لانڈھی اسٹیشن، ڈرگ روڈ اسٹیشن سمیت دیگر مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی ریلوے نے تصدیق کی مذکورہ ٹرین چلانے والے گروپ کو کچھ ماہ قبل دھمکیاں دی گئی تھیں اور بھتہ طلب کیا گیا تھا ، دوسری جانب جائے حادثے پر ٹریک کی مرمت کے کام کا معائنہ کرنے لیے ڈی ایس ریلوے کراچی مقصود النبی دوسرے روز بھی موقع پر پہنچے اور ٹریک کی بحالی کے کام کا جائزہ لیا، ریلوے انجیئنرنگ برانچ کے عملے کے مطابق کراچی سے جانے والا ٹریک آج (جمعرات کو) بحال کردیا جائے گاجبکہ کراچی آنے والے ڈائون ٹریک کو بدھ کی صبح بحال کردیاگیا تھا جس کے ذریعے ٹرینوں کی آمدوررفت کاسلسلہ شروع کردیاگیا۔

 photo 14_zpsfa6365ad.jpg

بدھ کو کراچی سے روانہ ہونے والی تیز گام کو ملیر،عوامی ایکپسریس کو جمعہ گوٹھ پر، شالیمار ایکسپریس کو لانڈھی ،ہزارہ ایکسپریس کو ڈرگ روڈ اسٹیشن پر روک لیا گیا تھا جبکہ دیگر ٹرینوں کینٹ اور سٹی اسٹیشن سے تاخیر سے روانہ کیا گیا جس کی وجہ سے مسافروں کوسخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔گھگھر پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں کا مقدمہ انسداد دہشت اور ریلوے ایکٹ کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا۔

دھابے جی ریلوے اسٹیشن سے چند کلو میٹر فاصلے پر گھگھر پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر کیے جانے والے یکے بعد دیگرے 2بم دھماکوں کو مقدمہ الزام نمبر 24/2014 جرم دفعات 324،427/34 ایکسپلوزو ایکٹ 3/4، انسداد دہشت گردی ایکٹ 7-ATAاور ریلوے ایکٹ 126کے تحت ریلوے پولیس کے انسپکٹر میر محمد ولد علی نواز کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف اسٹیل ٹائون تھانے میں درج کر لیا، جائے وقوعہ سے دونوں دھماکوں میں استعمال کی جانے والی الیکٹرانک ڈیوائس پولیس کو مل گئیں ۔ ایک الیکٹرانک ڈیوائس ملی کے ساتھ ایک اینٹینا، سیل اور14میٹر الیکٹرک وائر بھی موجود تھا۔، پہلے دھماکے میں4 جبکہ دوسرا دھماکا 70سے 75 فٹ کے فاصلے پر کیا گیا جس میں ایک کلو ہائی ایکسپلوزو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، دونوں دھماکے ریلوے ٹریک کے بائیں جانب کیے گیے جبکہ دھماکوں کے باعث ریلوے ٹریک کا ڈھائی سے3 فٹ کا ٹکڑا علیحدہ ہو گیا اور ٹرین کے انجن میں لگے بلیڈ اورکھچائو کے باعث مجموعی طور پر800 فٹ سے زیادہ ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا۔