ریلوے ٹریکس کی حفاظت ڈسٹرکٹ پولیس کی ذمے داری ہے سعد رفیق

ریلوے ٹریکس پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے،وزیر ریلوے


Staff Reporter February 06, 2014
ریلوے ٹریکس پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے،وزیر ریلوے۔ فوٹو : اے پی پی/فائل

لاہور: پاکستان ریلوے کراچی کے ترجمان ڈویژنل کمرشل آفیسر شعیب عادل نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے حکم پر دہشت گردی کا نشانہ بنائی جانے والے شالیمار ایکسپریس کے مسافر ٹکٹ 3 روز تک شالیمار ایکسپریس میں سفر کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اور اگر وہ سفر نہ کرنا چاہیں تو ٹکٹ کی پوری رقم واپس کر دی جائے گی۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ریلوے ٹریکس کی حفاظت ڈسٹرکٹ پولیس کی ذمے داری ہے لہذا پولیس کو چاہیے کہ وہ کراچی ڈویژن میں ریلوے ٹریکس کی حفاظت کے لیے فول پروف اقدامات کو یقینی بنائے اور ریلوے ٹریکس پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ریلوے ٹریکس کے اطراف میں علاقہ پولیس کے گشت کو معمول بنایا جائے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال کو قبل از وقت ناکام بنا دیا جائے ۔ دریں اثنا اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ،جس میں چیف آپریٹنگ سپر ٹینڈنٹ محمودالحسن ،انجینئر اوپن لائن ذوالفقار کلورڑ، چیف مکینک انجینئر کیرج انصار بلہی اور ڈی آئی جی ریلوے پولیس منیر چشتی شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی ڈی ایس ریلوے کے دفتر میں بیٹھے گی جو جائے وقوعہ کا دورہ کر کے وہاں کے مکینوں ، عینی شاہدین اور مسافروں سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کرے گی ، انھوں نے کہا ہے کہ اگر واقعے کا کوئی عینی شاہد موجود ہے تو وہ 7 اور 8 فروری کو صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک ڈی ایس آفس کراچی سٹی اسٹیشن پر آکر اپنا بیان قلمبند کرا سکتا ہے جس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔