نئے بلدیاتی آرڈیننس کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا ادارے عضو معطل انتظامی امور مفلوج

شہر میں صفائی ستھرائی کا آپریشن بند ہوگیا، ہوم ورک مکمل ہے، نوٹیفکیشن کا انتظار کررہے ہیں، اعلیٰ افسر.


Staff Reporter September 11, 2012
شہر میں صفائی ستھرائی کا آپریشن بند ہوگیا، ہوم ورک مکمل ہے، نوٹیفکیشن کا انتظار کررہے ہیں، اعلیٰ افسر

سندھ حکومت کی طرف سے ایس پی ایل جی او آرڈیننس 2012کے اجرا کے باوجود اس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا۔

جس کے باعث کراچی کے بلدیاتی ادارے عضو معطل اور انتظامی امور مفلوج ہوگئے ہیں، ان اداروں میں بحرانی کیفیت کے باعث بلدیاتی اداروں کے روز مرہ فرائض بھی متاثر ہورہے ہیں، تفصیلات کے مطابق سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے اجرا کو تین روز گزر جانے کے باوجود اس آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا ہے، گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث صوبائی حکومت اور محکمہ بلدیات نے ضروری نوعیت کے حکمنامے جن میں افسران کی تقرری بھی شامل ہے جاری نہیں کیے ، محکمہ بلدیات کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ ہمارا ہوم ورک مکمل ہے ہم صرف گزٹ نوٹیفکیشن کا انتظار کررہے ہیں۔

اس کے جاری ہونے کے بعد ضروری حکمنامے جاری اور ٹرانزٹ ونگ کو فعال کردیا جائیگا، افسر نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث بلدیاتی اداروں میں بدتر صورتحال پیدا ہوگئی ہے، ان اداروں کی روز مرہ سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں خاص طور پر شہر میں صفائی ستھرائی کا آپریشن کم وبیش بند ہوگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ افسران کی سست روی اور کام چوری بھی ہے کیونکہ اگر افسران صفائی ستھرائی اور روز مرہ کے امور انجام دینا چاہیں تو ان کو ایسا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو یہ صورتحال ہے، دوسری طرف بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کرنا چاہتی تھی تاہم محکمہ فنانس کے افسران نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔

اس سلسلے میں افسران کی اکثریت اپنے دفتر سے نہ صرف غائب ہوگئی بلکہ فنانس ڈپارٹمنٹ کے کمپیوٹر سیکشن میں خرابی بھی پیدا کردی گئی جس کے باعث تمام کمپیوٹرز نے کام کرنا چھوڑ دیا، ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر کے ایک معتمد خاص اور محکمہ فنانس کے ڈائریکٹر فرحان پورے دن افسران کو بلانے اور کمپیوٹر درست کرانے کی کوشش کرتے رہے تاہم ان کو اس میں ناکامی ہوئی، محکمہ فنانس کے ایک افسر نے بتایا ہم نے بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کو آگاہ کردیا ہے کہ جب تک نئے نظام کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن ہوکر ہم کو نہیں مل جاتا ہم کسی قسم کی ادائیگی نہیں کریں گے۔