دفتر خارجہ کی بریفنگ

حکومت کو بخوبی ادراک ہے کہ خطے میں امن‘ خوشحالی لانے اورانتہا پسندی سے نجات پانے کیلئے مسئلہ کشمیر کا فوری حل ناگزیرہے


Editorial February 08, 2014
حکومت کو بخوبی ادراک ہے کہ خطے میں امن‘ خوشحالی لانے اورانتہا پسندی سے نجات پانے کیلئے مسئلہ کشمیر کا فوری حل ناگزیرہے فوٹو: فائل

لاہور: پاکستان ایک بار پھر بھارت پر زور دے رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کا عمل شروع کرے مگر اس کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی عندیہ نہیں دیا جا رہا کہ وہ کشمیر کے تنازعے پر مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے یا نہیں' اس کی طرف سے ابھی تک مکمل خاموشی کا دور چل رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو بخوبی ادراک ہے کہ خطے میں امن' خوشحالی لانے اور انتہا پسندی کے عفریت سے نجات پانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا فوری حل ناگزیر ہے' اس کے حل میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی پاکستان اس مسئلہ سے جنم لینے والے کثیر الجہتی مسائل میں الجھتا چلا جائے گا۔ اس مسئلہ کے حل کی راہ میں اب تک بھارتی ہٹ دھرمی آڑے آتی رہی ہے، بھارتی حکومت نے اسے حل کرنے کے لیے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ جب بھی مذاکرات شروع کیے تو اسے نتیجہ خیز بنانے کی پرخلوص کوشش نہیں کی بلکہ مذاکرات کے دوران بھی کشمیر کو بھارتی اٹوٹ انگ کہنے کی رٹ مسلسل جاری رکھی۔ابتدا میں کشمیر کا تنازعہ بھارتی حکومت خود اقوام متحدہ میں لے کر گئی تھی۔ اس طرح اس آڑ میں اس نے ایک جانب وقت گزارنا تو دوسری جانب کشمیر میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانا شروع کر دیے۔

بھارت بخوبی جانتا ہے کہ دریاؤں کے حوالے سے کشمیر کی پاکستان کے نزدیک کتنی اہمیت ہے اسی تناظر میں وہ کشمیر میں مختلف ڈیم بنا کر پاکستان کے لیے پانی کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ بھارت کشمیر کا تنازعہ نہ بھی حل کرے تو اس کو پاکستان کے مقابل اتنا فرق نہیں پڑے گا جتنا پاکستان متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے کشمیر شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے اس لیے اس مسئلہ کے حل نہ ہونے سے پاکستان مختلف مسائل کا شکار رہے گا۔ پاکستان بھارت پر زور دیتا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے مگر بھارت اس سے مسلسل پہلو تہی کرتا چلا آ رہا ہے۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے اور کسی ایک ملک کے کہنے سے یہ قراردادیں غیر موثر نہیں ہو جاتیں' اگر پاکستان اور بھارت کسی مرحلے پر مسئلہ کشمیر کے حل پر متفق ہو جائیں تو ان کو اس حل کو اقوام متحدہ سے توثیق کے لیے سلامتی کونسل میں لے جانا ہو گا۔ پاکستان' بھارت سے بہتر تجارتی تعلقات قائم کر رہا اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بتایا کہ دونوں ممالک لائن آف کنٹرول پر بس سروس بحال کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔

پاکستان اس وقت گیس کے بحران سے نمٹ رہا ہے۔ اس بحران کے باعث اس کی صنعتی اور گھریلو زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان نے ایران سے پائپ لائن کے ذریعے گیس کے حصول کا معاہدہ کیا تھا مگر بعض خبروں کے مطابق امریکی دباؤ اور ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ شروع نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب پائپ لائن بچھانے کے لیے پاکستان کو سرمائے کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ ایران کے امریکا سے تعلقات میں بہتری آنے پر اس منصوبے کے ختم ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے اس صورت حال پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں کہ پاکستان نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے' منصوبہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ تاہم ترجمان نے اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ کچھ تکنیکی مسائل سامنے آ رہے ہیں جن کا تعلق منصوبے کے ٹائم فریم سے ہے' ساتھ ہی ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے کچھ مالی معاملات بھی ہیں۔ یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے نہایت اہم ہے لیکن اس پر عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ فنڈز کی دستیابی ہے۔

جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے پاکستان کے مسلسل مطالبے پر امریکا نے ان حملوں میں کمی ضرور کی ہے مگر مکمل بند نہیں کیے۔ اب بھی امریکی حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ جب انھیں کسی مطلوبہ شخص کی اطلاع ملی وہ اسے ضرور ٹارگٹ بنائیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈرون حملوں پر پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے' امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہ حملے مکمل طور پر روکے جائیں۔ ڈرون حملوں نے پاکستان کے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے امریکی دورہ کے موقع پر صدر اوبامہ سے بھی یہ حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا مگر امریکا اپنے مفادات کے حصول کے لیے انھیں بند کرنے پر تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے واضح موقف کے نتیجے میں عالمی سطح پر ڈرون حملوں کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے جس سے بھی امریکا پر دباؤ بڑھا ہے مگر وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرون حملوں کو جائز قرار دیتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان اب بھی امریکا سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ڈرون حملے بند کر دیے جائیں۔ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی کثیر الجہتی مسائل کا شکار ہے۔ بہت سے اندرونی مسائل کا بلا واسطہ یا بالواسطہ تعلق بیرونی مسائل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب تک یہ بیرونی مسائل موجود ہیں اور ان کا موزوں حل نہیں نکلتا تب تک پاکستان ان سے وابستہ اندرونی مسائل سے نجات نہیں پا سکتا۔ ڈرون حملوں کا تعلق امریکی پالیسی سے ہے اس میں نیٹو بھی شریک ہے۔ پاکستان' امریکا اور عالمی برادری سے ڈرون حملے روکنے کا صرف مطالبہ ہی کر سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر بھی بیرونی مسئلہ ہے ۔

جس کے حل کے لیے پاکستان بھارت پر مسلسل زور دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا نہیں کیا اور نہ بھارت پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا ہے۔ مسئلہ کشمیر کب حل ہوتا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں تاہم یہ مسئلہ جتنی جلد حل ہو جائے اس خطے کی بہتری کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ گیس کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن جیسا بیرونی مسئلہ بھی اندرونی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں گیس کی کمی پر قابو پانے میں بڑی حد تک مدد ملے گی مگر ایران پر عائد عالمی پابندیوں کے ساتھ ساتھ فنڈز کی کمی بھی اس منصوبے کی راہ میں حائل ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام ذرایع بروئے کار لا رہی ہے مگر ان کے حل کا ٹائم فریم طے کرنا مشکل امر ہے۔ موجودہ حکومت جس سرگرمی سے ان مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے امید ہے وہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔