تمام اداروں پر لازم ہے دیانتداری سے فرائض انجام دیں چیف جسٹس

تمام اداروں پر لازم ہے کہ عوام کے مفاد میں ایمانداری اور دیانتداری سے کام کریں،بدعنوانوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا


Numainda Express September 11, 2012
تمام اداروں پر لازم ہے کہ وہ عوام کے مفاد میں ایمانداری اور دیانتداری سے کام کریں،بدعنوانوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے جمہوریت ، برابری ،آزادی اور معاشی انصاف کے اصولوںکواپنانے سے امن قائم ہوگااورقانون کی بالا دستی حاصل ہوگی۔

اعلیٰ عدلیہ کو قانون کی تشریح اورانتظامیہ و مقننہ کے اقدامات کوآئین کے بنیادی ڈھانچے کی روشنی میںپرکھنے کا اختیار حا صل ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں انھوں نے کہا یہ موقع ہے کہ بینچ اور بار اکھٹے ہوکر بیٹھیںاور عدلیہ کے ادارے کی کارکردگی کا مجموعی طور پر جائزہ لیں تاکہ عدالتی نظام کو درپیش خطرات اور مشکلات کا سدِباب کیا جاسکے۔چیف جسٹس نے کہا انصاف کی عدم فراہمی، لوگوں کے حقوق کی پامالی کو جنم دیتی ہے جس سے عدم استحکام اور انتشار پھیلتا ہے، جہاں طاقت حق بن جائے اس معاشرے کے ڈھانچہ کو آسانی سے توڑا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں عوام کو مجبورکیا جاتا ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں۔

آئین اور قانون کی بالادستی ہی تمام سماجی برائیوں اور معاشی مسائل کا واحد حل ہے۔ اسلام ایسے معاشرے کے قیام پر زور دیتا ہے جہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو، چیف جسٹس نے کہا طاقت کی تکون کے اصول جیسا کہ آئین کی شقوں میں درج کیا گیا ہے اس کا مقصدحکومتی اداروں کے مابین ہم آہنگی اور ربط کا ایسا ماحول بنانا ہے تاکہ شفاف انصاف کی فراہمی کا مقصد پورا ہو سکے۔ عدلیہ کو خاص طور پر عدالتی نظرثانی کا اختیار دیا گیاہے کہ یکطرفہ زیادتیوں اور انحراف پر نظر رکھی جا سکے۔عدلیہ تیسرے ستون کی حیثیت سے آئین کی حاکمیت اور بنیادی حقوق کے محافظ کے طور پر سامنے آئی ہے ،عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے عدالتی فعالیت سے نہ صرف عدالتی نظام میں مجموعی بہتری آئی ہے بلکہ اس ادارے پر عوام کا اعتماد بڑھا ہے۔

اعلیٰ عدالت کی طرف سے تمام فیصلوں میں سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک اور یکساں قانونی حفاظت سے ریاستی اداروں اور عام لوگوں میں فاصلے کم ہوئے ہیں اور معاشی برائیوں مثلاً کرپشن، اغواء، زبردستی غائب کرنا، ٹارگٹ کلنگ، دہشتگردی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میںکافی کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا پاکستان میں وقوع پذیر تغیرو تبدل پر عدلیہ ہر قیمت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مناسب اقدامات کی طرف توجہ دی جارہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا مقدمات کے نمٹائے جانے میں تاخیرکی ایک وجہ ضلعی سطح پر عدالتی افسران کی کمی ہے۔ اس وقت صوبہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آبادمیںبالترتیب 103, 102, 182, 87, 177اور 79عدالتی افسران کی اسامیاں خالی ہیں۔

ضلعی سطح پر ججزکی اسامیوںکی تعداد میں اضافہ کے مسئلہ کو لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی طرف سے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکومتوں کے انتظامی حکام کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلیے ہائی کورٹس کیلیے اضافی بجٹ درکارتھا تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہواہے۔ چیف جسٹس نے کہا یکم ستمبر 2011 تا 27 اگست 2012تک 12902نئے مقدمات داخل ہوئے جبکہ 11,423مقدمات نمٹائے گئے،ابھی 21,511 مقدمات باقی ہیں ۔ سپریم کورٹ میں عوامی مفاد کی مقدمہ بازی میں دادرسی کیلیے سیل کو یکم ستمبر 2011تا 31جولائی 2012تک 43458درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 38253 درخواستوںکو نمٹا دیا گیا ۔

انھوں نے کہا آئین کے زیر سایہ اعلیٰ عدالتوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون کی تشریح کریں اور انتظامیہ اور مقننہ کے اقدامات کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کی روشنی پر پرکھیں ۔ ججز اپنے حلف کے پابند ہیںکہ وہ انصاف ہر خاص و عام کو آزادانہ اور منصفانہ طور پر مہیا کریں۔ ججزکیلیے یہ ضروری ہے کہ وہ آئین پاکستان کی حفاظت اور دفاع کریں۔ اسی طرح آئین پاکستان کے دفاع اور حفاظت کی ذمہ داری تمام حکومتی/عوامی نمائندگان اور منتخب عوامی نمائندگان پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ریاست کے تمام اداروں اور اعضاء کیلیے لازم ہے کہ وہ عوامی مفادکی خاطر ایمانداری اور دیانتداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا قانون کی بالادستی تمام سماجی برائیوں کا حل ہے، شفافیت، قانونی طریقہ کار اور اہلیت کو کارکردگی کے نام پر قربان نہیں کیا جا سکتا، بدعنوانوںکے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا ۔عدلیہ آئین اور قانون کی بالادستی کیلیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر یاسین آزاد نے ازخود نوٹس کے مقدمات کا دفاع کیا اورکہا ریاست کو مستحکم کرنے میں عدلیہ کو خود سے قدم اٹھانے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے ہائی کورٹس میں ججوں کی خالی نشستوں کو پرکرنے پر زور دیا اورکہا ججوں کی تعیناتی میں بارکونسل کی رائے کو اہمیت ملنی چا ہیے۔اٹارنی جنرل عرفان قادر نے تقریب میں شرکت نہیں کی اور ان کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے خطاب کیا۔