ملک میں نفاذ شریعت کا مطالبہ غیر آئینی نہیں منور حسن

اردو کو ذریعہ تعلیم نہ بنانا خلاف آئین ہے، شریعت کوئی خطرناک یا ڈرائونی چیز نہیں


Numainda Express February 09, 2014
حکمراں آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیں تو ملک مسائل سے نکل آئے گا۔ فوٹو: فائل

امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ شریعت کا نام سن کر کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے، شریعت کوئی خطرناک یا ڈرائونی چیز نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی اور بھلائی کیلیے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔

منصورہ میں دانشوروں اور ماہرین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نفاذ شریعت کا مطالبہ نیا ہے نہ غیرآئینی، آئین پاکستان میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا تسلیم کیا گیا ہے اور یہ عہد کیا گیاکہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، حکمراں 1973 کے آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیں تو نہ صرف ملک مسائل کے گرداب سے نکل آئے گا بلکہ قیام پاکستان کے مقاصد کی بھی تکمیل ہوگی اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا قومی وقار بھی بحال ہوجائے گا۔

 photo 7_zpseace425e.jpg

انھوں نے کہا کہ جو لوگ شریعت کے نام سے چڑتے ہیں وہ دراصل آئین پاکستان کی نفی کرتے ہیں، مذاکرات کی کامیابی ملک و قوم کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہوگی، اردو کو ذریعہ تعلیم نہ بنا کر آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ منور حسن نے کہا کہ طالبان پرکسی آئین و قانون کو نہ ماننے کا الزام لگانے والے 66سال سے آئین کو پامال کررہے ہیں۔