خوف زدہ مدعیان بھتہ خوروں کی شناخت اور بیان سے منحرف ہو گئے

مدعی کاشف نے بھتہ وصولی کے ملزم ریاض کو رنگے ہاتھوں گرفتار کراکر مقدمہ درج کرایا،عدالت میں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا


Staff Reporter February 11, 2014
مصجاب علی نے اپنی بیٹی کی قابل اعتراض تصاویر ختم کرنے کے عوض بھتہ طلب کرنیوالے پڑوسی ملزم کی شناخت سے انکار کردیا

بھتہ خوری کے مقدمات میں گواہ اور مدعی خوف زدہ ہوکر عدالتوں میں منحرف ہونے لگے ،بھتہ خوری کے مقدمات میں 2 مدعی مقدمات سے منحرف ہوکر ملزمان کی شناخت اور اپنے بیانات سے انکاری ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں بھتہ خوری کے الزام میں پیش کردہ ملزمان کے مقدمات کے مدعیان عدم تحفظ کے باعث خوف میں مبتلا ہوکر ملزمان کو شناخت کرنے اور اپنے بیانات سے منحرف ہورہے ہیں، پیر کو جیل حکام نے بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ملزم ریاض الدین کو خصوصی عدالت میں پیش کیا اس موقع پر وکیل سرکار نے مدعی مقدمہ محمد کاشف کو بیان قلمبند کرانے کیلیے فاضل عدالت کے روبرو پیش کیا، اس موقع پر مدعی نے عدالت میں موجود ملزم کو شناخت کرنے سے انکار کردیا اور بتایا کہ پولیس نے اس کی موجودگی میں کسی بھی ملزم کو گرفتار کیا اور نہ ہی کوئی موبائل فون برآمد کیا تھا اس موقع پر وکیل سرکار نے مدعی کو منحرف قرار دیا اور عدالت کو بتایا کہ مدعی خوفزدہ ہے اور اسی خوف سے وہ اپنے بیان سے منحرف ہوا ہے، پولیس نے مدعی سے 10 ہزار روپے بھتہ وصول کرتے ہوئے ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا اور اسے گرفتاری کا مشیر بھی بنایا تھا، مدعی کے بیان کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی تھی تاہم عدالت میں مدعی اپنے بیان سے منحرف ہوگیا۔



وکیل سرکار نے مدعی کے بیان پر جرح مکمل کرلی، اسی عدالت میں مدعی مصجاب علی صدیقی کی بیٹی کی ناقابل اعتراض تصاویر بنانے اور بلیک میل کرنے اور تصاویر کو ختم کرنے کے عوض بھتہ طلب کرنے کے الزام میں ملوث ملزم کاشف کے مقدمے میں مدعی اپنے بیان سے منحرف اور ملزم جو کہ اس کا پڑوسی ہے اسے شناخت کرنے سے بھی انکار کردیا جس پر وکیل سرکار نے مدعی کو منحرف قرار دینے کی استدعا کی، وکیل سرکار نے عدالت کو بتایا کہ مدعی نے خود دوسری عدالت میں ملزم کو شناخت کیا تھا اور ضابظہ فوجداری کے تحت اقبالی بیان بھی قلمبند کرایا تھا اور پولیس نے مدعی کی نشاندہی اورموجودگی میں ملزم کو گرفتار اور موبائل فون اور قابل اعتراض تصاویر برآمد کی تھیں لیکن عدالت میں خوف زدہ ہونے کے باعث اپنے بیان سے منحرف ہوچکا ہے، وکیل سرکار نے مدعی کے منحرف ہونے پر اس کے بیان پر جرح کی ، عدالتوں میں نصف درجن سے زائد مدعی اور گواہ ملزمان کی شناخت اور اپنے بیان سے منحرف ہوچکے ہیں جنھیں وکیل سرکار نے منحرف قرار دیا ہے۔