حجروں اور خانقاہوں سے نکل کر سڑکوں پر آنیکا وقت آگیا

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے ملزمان 72 گھنٹے میں گرفتار کیے جائیں، قاضی احمد نورانی


Staff Reporter February 11, 2014
ندیم قادری کا قتل اورآستانے پر حملے نے آپریشن پر سوالیہ نشان لگا دیا، ثروت اعجاز فوٹو: فائل

جمعیت علما کراچی کے صدر علامہ قاضی احمد نورانی نے کہا ہے کہ حیا کے نام پر فساد پھیلانے والے جان لیں آستانوں ،خانقاہوں اور مزارات کاتحفظ کرنا جانتے ہیں۔

حجروں اور خانقاہوں سے نکل کر سڑکوں پرآنے کا وقت آگیاہے، اگربلدیہ ٹاؤن سانحے کے مجرم، گستاخان اولیا ومزارات فوری گرفتارنہ ہوئے تو علما ومشائخ اہلسنّت 72 گھنٹوں میں مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پریس کلب میں علما ومشائخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا، اس موقع پر علامہ السیدعقیل انجم قادری، مفتی رفیع الرحمن نورانی، علامہ ناصر خان قادری ترابی، مولانا منیر احمد شاکر،مولانابلال قادری، مولانا عبدالمتین نعیمی ودیگر نے بھی خطاب کیا،علما ومشائخ نے مطالبہ کیاکہ سانحہ کے اصل ذمہ داران گرفتار نہ ہوئے تو 72 گھنٹوں میں ہم تمام علمااور مشائخ عظام سے مشورے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کااعلان کریں گے۔



علاوہ ازیں پاکستان سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ سانحہ آستانہ عالیہ بلدیہ ٹاؤن اور اورنگی ٹاؤن میں امام و خطیب علامہ سید محمد ندیم قادری کے بہیمانہ قتل نے موجودہ آپریشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی دین مذہب نہیں، یہ مسلمان تو دور انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں، ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو سخت لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہونگے،ثروت اعجاز نے صدر مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ، ڈی جی رینجرز سندھ اور آئی جی سے مطالبہ کیا کہ سانحہ آستانہ عالیہ بلدیہ ٹاؤن اور اورنگی ٹاؤن میں امام وخطیب کے قتل کا نوٹس لیں۔