لیاری ایکسپریس وے متاثرین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی پر حکومت کو نوٹس جاری

عدالتی حکم کےباوجود رقم ادا نہیں کی گئی،متاثرین،بعض متاثرین کو رقم ادا کردی،دیگر کے لیے وقت دیا جائے،ڈپٹی اٹارنی جنرل۔


Staff Reporter September 12, 2012
لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے رواں مالی سال کے بجٹ میں445 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، فوٹو فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی نہ کرنے پر حکومت سندھ اور بلدیہ عظمی کراچی کو توہین عدالت کے الزام میں11اکتوبر کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

فاضل بینچ نے8اگست کو200سے زائد متاثرہ خاندانوں کو تین ہفتوں میں معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹائی تھی تاہم صادق احمد سمیت دیگر متاثرین نے بتایا کہ عدالت کے حکم کے باوجود انھیں ان کی زمینوں کے معاوضے ادا نہیں کیے جارہے۔

جبکہ حکومت نے گذشتہ سماعت پر بتایا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کیلیے رواں مالی سال کے بجٹ میں445 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ محکمہ خزانہ نے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں معاوضے کی رقم کی ادائیگی کیلیے445ملین روپے مختص کردیے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بعض متاثرین کو معاوضے کی رقم ادا کردی گئی ہے اور اس حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے لہٰذا حکومت کو مزید مہلت دی جائے، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے بینکنگ کورٹ کے سربراہ اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر داخل کیے گئے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید ایک موقع دیا ہے تاکہ وہ اضافی جواب داخل کرسکیں۔

فاضل بینچ نے آبزرو کیا کہ توہین عدالت کے مقدمے میں داخل کیے گئے جواب میں پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیا گیا، عدالتی عملے کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالتی ڈائریوں میں تضاد پایا جاتا ہے، ماتحت بینکنک کورٹ نے ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود مقدمے کا ریکارڈ بروقت فراہم نہیں کیا، ڈگری ہولڈر کی درخواست کے بغیر ہی انھیں مذکورہ بنگلے کا تین یوم میں قبضہ دینے اور ناکامی کی صورت میں پولیس کی مدد سے تالے توڑ کر قبضہ دینے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

فاضل بینچ نے توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے قراردیا کہ ماتحت عدالت کیخلاف تادیبی کارروائی کیلیے انتظامی طور پر معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کیا جاتا ہے، منگل کو سماعت کے موقع پر خواجہ شمس الاسلام اور محسن شہوانی ایڈووکیٹس نے توہین عدالت کی درخواست میں موقف اختیارکیا کہ ان کے موکل نے ڈیفنس فیزVIمیں واقع بنگلہ نمبر 91-B-IIIکی نیلامی کے عمل میں شرکت کی۔

متعلقہ عدالت نے رقم کم ہونے کے باعث بولی مسترد کردی تاہم عدالت کی مطلوبہ رقم پر راضی ہوجانے کے باوجود بنگلہ اسے نہیں دیا گیا بلکہ ایک صوبائی وزیر کی والدہ کودیدیا گیا، اپیل کنندہ کے مطابق اس نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور ہائیکورٹ نے حکم امتناع بھی جاری کردیا تھا۔

لیکن بینکنگ کورٹ نے بنگلے کے ٹائٹل ڈاکومنٹس صوبائی وزیر کی والدہ کے حق میں جاری کردیے جو کہ توہین عدالت کے مترادف ہے، اس لیے مدعا علیہان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور اپیل کنندہ کو بنگلے کی دوبارہ نیلامی میں شریک ہونے کا موقع دیا جائے۔