میمن گوٹھ سے ملنے والی2لاشوں کی شناخت ہوگئیمقتولین ڈیڑھ برس سے لاپتہ تھے

شوکت اور سمیع اللہ ڈرائیور تھے، ڈیڑھ برس قبل نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے، ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر تھی


Staff Reporter February 19, 2014
شوکت اور سمیع اللہ ڈرائیور تھے، ڈیڑھ برس قبل نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے، ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر تھی. فوٹو : فائل

PALLEKELE: میمن گوٹھ سے ہفتہ کو ملنے والی 2 لاشوں کی شناخت کرلی گئی۔

دونوں افراد ڈیڑھ برس سے لاپتہ تھے جبکہ ان کے ورثا نے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا ، تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو میمن گوٹھ کے علاقے بخشا گوٹھ نزد سپر ہائی وے سے 2 افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا اور لاشیں پھینک کر فرار ہوگئے تھے ، دونوں افراد کی شناخت 30 سالہ شوکت اللہ ولد اکبر زمان اور 25 سالہ سمیع اللہ ولد سردار خان کے نام سے کی گئیں ، میمن گوٹھ پولیس کے مطابق ورثا نے بیان دیا ہے کہ دونوں افراد بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی تھے۔

جبکہ پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور تھے ، ایک ٹیکسی چلا کر اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتا تھا جبکہ دوسرا ڈمپر ڈرائیور تھا ، دونوں کا آبائی تعلق شمالی وزیرستان سے تھا جبکہ انھیں ڈیڑھ برس قبل نامعلوم افراد اپنے ہمراہ لے گئے تھے جس کا مقدمہ بلدیہ ٹاؤن کے موچکو تھانے میں درج ہے ، ورثا نے اس کے بعد انھیں ہر ممکن مقام پر تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملے ، پولیس و رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں میں بھی درخواستیں بھیجیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ، پولیس کا کہنا ہے کہ ورثا نے مزید بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کردی اور ان کا کیس عدالت میں زیر سماعت تھا ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کردیں۔