برمی مسلمانوں کو ضیا دور سے پاکستانی پاسپورٹس کا اجرا جاری

اہل اور حقدار سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پلاٹوں کی الاٹ منٹ دوبارہ شروع کی جائے، چیئرمین کمیٹی کی ہدایت


Numainda Express September 12, 2012
اہل اور حقدار سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پلاٹوں کی الاٹ منٹ دوبارہ شروع کی جائے، چیئرمین کمیٹی کی ہدایت

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سعودی عرب میں مقیم برما کے مسلمانوں کیلیے پاکستانی پاسپورٹ کے اجرا کی 20 روز کے اندرتفصیلات طلب کرلیں۔

کمیٹی کااجلاس منگل کو چیئرمین ندیم افضل چن کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ ارکان کمیٹی نے اپنے تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ برمی مسلمان وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں اور پاکستان بدنام ہوا ہے۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سعودی عرب میں مقیم برما کے مسلمانوں کو پاکستانی پاسپورٹ کی اسٹیمپ گم ہونے کی وجہ سے 12 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ وزارت خارجہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے ایک آرڈر کے تحت 1986ء میں سعودی عرب میں مقیم برما کے مسلمانوں کو یہ حق دیا تھا کہ وہ پاکستان کا پاسپورٹ حاصل کرسکتے ہیں اور تب سے برما کے مسلمانوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں۔

درمیان میں کچھ عرصہ انھیں پاسپورٹ کا اجراء بند ہوگیا تھا لیکن 1994ء میں دوبارہ پاسپورٹ کا اجراء شروع ہوگیا تھا ۔ آڈٹ حکام اور ارکان کمیٹی کے تحفظات تھے کہ برما کے مسلمانوں کو پاکستانی پاسپورٹ ایک مخصوص مدت کیلیے جاری کیے گئے تھے اور انھیں کہا گیاتھا کہ دو سال کے اندر اندر پاکستانی شہریت کیلیے درخواست دے دیں لیکن نہ تو انھوں نے پاکستانی شہریت کیلیے درخواست دی نہ پاکستان کا کبھی دورہ کیا اور نہ کبھی پاکستان میں رقم بھیجی۔ رکن نورعالم خان نے سوال اٹھائے کہ ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ یا عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا گیا ہے؟ اور بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر و دیگر معاملات پر ہونیوالے مذاکرات میں کیا پیشرفت ہوئی ہے؟

چیئرمین پی اے سی ندیم افضل چن نے وزارت خارجہ کے حکام کو جواب دینے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ ان معاملات پر وزارت خارجہ سے ایک خصوصی بریفنگ لی جائے گی۔کمیٹی نے وزارت ہاؤسنگ وتعمیرات کواہل اور حقدار سرکاری ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک سرکاری پلاٹ الاٹ کرنے کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت کوہدایت کی کہ وزارت کے مختلف اہلکاروں کے ذمے واجب الادا رقم کی وصولی کیلیے ریٹائرڈ ملازمین سے لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت جبکہ حاضر سروس ملازمین سے ان کی تنخواہوں سے 15 روز کے اندر اندر وصولی کی جائے۔