صوبے میں ایمبولینس سروسز کو رجسٹرڈ کرکے سینٹرلائز کرنے کا فیصلہ

نجی وسرکاری ایمبولینس سروسز رجسٹرڈ ہونگی،مرکزی اتھارٹی قائم کی جائیگی


Staff Reporter February 21, 2014
بااختیار سینٹرل اتھارٹی آف سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز بنائی جائیگی،خون عطیہ کرنیوالے پروفارما بھرینگے،خون کی تشخیص الائیزا تکنیک سے ہوگی۔ فوٹو: فائل

حکومت نے صوبے میں ایمبولینس سروسز کو رجسٹریشن کے بعد سینٹرلائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو موثر اور بااختیار بناکر نام تبدیل کرکے سینٹرل اتھارٹی آف سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز رکھا جائے گا۔

سندھ نرسنگ امتحانی بورڈ کے بگڑتے معاملات پر ڈپٹی سیکریٹری کو ہٹادیا گیا ہے، یہ فیصلے چیئرمین صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن ڈاکٹر عاصم حسین کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے،اجلاس میں صوبائی سیکریٹری صحت اقبال درانی، اسپیشل سیکریٹری صحت ڈاکٹر منصورعباس، ڈاکٹر زاہد انصاری، ڈاکٹر عزیز میمن نے شرکت کی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی سمیت صوبے میں تمام نجی وسرکاری ایمبولینس سروسز کو رجسٹر کرکے سینٹرلائزکرکے ایک اتھارٹی قائم کی جائے گی، صرف رجسٹرڈ ایمبولینس ہی مریضوں کو لانے اور لے جانے کیلیے استعمال ہوگی، ہر ایمبولینس میں ایک ڈاکٹر اور2 تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف تعینات ہوگا، ایمبولینس میں آکسیجن ، بلڈ پریشر مانیٹر مشین نصب ہوگی،سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو سینٹرلائز کرکے اسپتالوں کے قریب غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہر ضلع میں سینٹرلائز بلڈ بینک کے ساتھ رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے مراکز قائم کیے جائینگے اور رضاکارانہ خون عطیہ کرنیوالوں سے پروفارما پر کرایا جائے گا، بلڈ بینکوں میں کام کرنے والے ٹیکنیشن کی قابلیت انٹرسائنس لازمی ہوگی،ٹیکینشن گریڈ 14 کے ملازم ہونگے، تمام رجسٹرڈ بلڈ بینک خون کے امراض کی تشخیص (اسکریننگ) الائیزا ELIZA تکنیک سے کریں گے،سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کومزید موثر اور بااختیار بناکر سینٹرل اتھارٹی آف سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز میں تبدیل کیا جائے گا،اجلاس میں سندھ نرسنگ امتحانی بورڈکے معاملات کا جائزہ لیکر ڈپٹی سیکریٹری صحت ڈاکٹر اطہرکی بورڈ میں مداخلت اور مالی فوائد حاصل کرنے پر عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ،سندھ نرسنگ امتحانی بورڈ کی جانب سے امتحانی نتائج میں تاخیر کا نوٹس لے کر ڈپٹی سیکریٹری کوہٹانے کی منظوری دی گئی، ڈپٹی سیکریٹری بورڈ سے ٹی اے ڈی اے وصول اور نرسنگ اسکولوں میں داخلوں کیلیے اثر ورسوخ استعمال کرتے رہے ہیں۔