ایشیا کپ بنگال ٹائیگرز بھارت پر دھاک بٹھانے کیلیے بے تاب

آج آمنے سامنے،آخری مقابلے کی اپ سیٹ فتح میزبان سائیڈ کے حوصلے بلند کرنے لگی


Sports Desk February 26, 2014
آج آمنے سامنے،آخری مقابلے کی اپ سیٹ فتح میزبان سائیڈ کے حوصلے بلند کرنے لگی۔ فوٹو: فائل

CHAMAN: ایشیا کپ میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بدھ کو میدان سجے گا، بنگال ٹائیگرز بھارت پر اپنی دھاک بٹھانے کیلیے بے تاب ہیں۔

آخری مقابلے کی اپ سیٹ فتح میزبان سائیڈ کے حوصلے بلند کرنے لگی، محمود اللہ کی جگہ ضیا الرحمان کو ملنے کا امکان ہے، دوسری جانب بھارت نئے مڈل آرڈر کو آزمائے گا، تین فاسٹ بولرز اور ایک اسپنر کے ساتھ فیلڈ سنبھالنے کی توقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق آخری مرتبہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ون ڈے میچ 2012 میں ایشیا کپ میں ہی ہوا جب سچن ٹنڈولکر نے اپنی انٹرنیشنل سنچریوں کی سنچری مکمل کی تھی، مگر میچ بنگلہ دیش نے اپنے نام کیا تھا،اس وقت مشفیق الرحیم اور شکیب الحسن نے 290 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں اہم کردار نبھایا، اس مرتبہ بنگال ٹائیگرز کو شکیب کا ساتھ میسر نہیں جو نازیبا اشارے پر تین میچز کی پابندی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ مشفیق الرحیم پہلے ہی یہ اعتراض کرچکے کہ ان سے ایشیا کپ کے اسکواڈ کے انتخاب میں رائے نہیں لی گئی، انھیں انجری کے باعث اوپنر تمیم اقبال کا بھی ساتھ حاصل نہیں ہے۔

ایک برس قبل مشفیق نے کہا تھا کہ بھارتی شکست کی وجہ اس کا کمزور بولنگ اٹیک ہے اور اب بھی مہمان بولرز کی پرفارمنس زیادہ اچھی نہیں، نیوزی لینڈ کے خلاف خاص طور پر اٹیک ناکام ثابت ہوا۔ دھونی کی انجری کے باعث ٹیم کی قیادت کوہلی کے ہاتھوں میں ہے جو نئے نویلے مڈل آرڈر کے ساتھ میدان میں اتریں گے، 2004 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بھارتی الیون میں دھونی، یوراج سنگھ یا سریش رائنا شامل نہیں ہیں، پانچویں نمبر کے لیے اجنکیا راہنے یا امباتی رائیڈو میں سے کسی ایک کو موقع مل سکتا ہے۔ بنگلہ دیشی کپتان مشفیق نے اگر خود وکٹ کیپنگ کی تو سری لنکا کے خلاف سیریز میں ناکام رہنے والے انعام الحق کی جگہ امرالقیس کو بطور اوپنر کھلایا جائے گا، ضیاالرحمان کو محمود اللہ کی جگہ مل سکتی ہے جبکہ نعیم اسلام بدستور شکیب کی جگہ کھیلیں گے۔ فلیٹ وکٹ پر بعد میں فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو اوس کی وجہ سے پریشانی ہوسکتی ہے۔میزبان بولر مشرفی مرتضیٰ نے کہاکہ ہم بھارت کو پہلے ہرا چکے، اگر اس بار ایسا ہوا تو یہ اپ سیٹ نہیں بلکہ عام سی بات ہوگی۔