آخر ریاستی اداروں کا کیا قصور ہے؟

جاوید چوہدری  جمعرات 14 اپريل 2022
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

میں نے اپنی ہوش میں دو مارشل لاء دیکھے ہیں‘ اسکول میں تھا تو جنرل ضیاء الحق آ گئے اور وہ میرے کالج تک قائم و دائم رہے‘ ہم نے اس زمانے میں سنا مارشل لاء برا ہوتا ہے اورملک جمہوریت اور آئین سے چلتے ہیں‘ پھر دوبار بے نظیر بھٹو اور نواز شریف آئے‘ میں اس وقت صحافت میں آگیا تھا اورپھر میں نے جنرل پرویز مشرف کو طلوع اور غروب ہوتے دیکھا‘ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیاء الحق دونوں میں بے انتہا خوبیاں تھیں۔

یہ دونوں عالمی طاقتوں کو کھینچ کر اپنے میدان میں بھی لے آئے اور یہ اپنے اپنے زمانے میں دنیا کی مجبوری بھی بن گئے بس ان میں ایک خامی تھی اور اس کا نام تھا آمریت‘ یہ دونوں ڈکٹیٹر تھے اور آمر اگر سونے کے بھی بن جائیں تو بھی یہ باشعور معاشروں کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے لہٰذا عوام نے دونوں مرتبہ ان کے خلاف باقاعدہ تحریک چلائی۔

یہ پڑھی لکھی رائے ہے اگر جنرل ضیاء الحق حادثے کا شکار نہ ہوتے تو وہ بھی سال چھ ماہ میں جنرل پرویز مشرف بن جاتے‘ ہم اس زمانے میں آمروں کے ساتھ ساتھ پی سی او ججز کو بھی برا بھلا کہتے تھے اور یہ غلط نہیں تھا کیوں کہ یہ حقیقت ہے ڈکٹیٹر شپ وہ انجن ہوتا ہے جس کو فیول ہمیشہ جوڈیشری سے ملتا ہے لہٰذا ان دونوں کا اتفاق ملکوں اور معاشروں کو تباہ کر دیتا ہے اور ہمارے ماضی میں ہمیشہ یہ ہوتا رہا‘ عمران خان کی لانچنگ کے دوران بھی ایسا ہی دیکھنے میں آیااور اس میں اب کسی قسم کے شک کی گنجائش موجود نہیں۔

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو میرا خیال تھا ہم بڑی تیزی سے اس غار میں داخل ہو رہے ہیں جس کے آخر میں میرے عزیز ہم وطنوں لکھا ہے لہٰذا یہ ڈرامہ پانچویں مارشل لاء پر ختم ہو گا‘ میرے دوست احسن اقبال کا ایک آڈیو میسج اب بھی میرے پاس محفوظ ہے جس میں انھوں نے ملک میں مارشل لاء کے 60 فیصد امکان کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور میں نے ان سے اتفاق کیا تھا‘ تین اپریل کا دن طلوع ہوا اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر تحریک عدم اعتماد مسترد کر دی‘ اتوار کے دن عدالت کھلی‘ چیف جسٹس نے سوموٹو نوٹس لیا اور معاملہ چار دن تک چلتا رہا‘ میرا خیال تھا سپریم کورٹ ’’جوڈیشل کو‘‘ کی طرف جا رہی ہے۔

یہ سال چھ ماہ کے لیے ٹیکنو کریٹس کی عبوری حکومت بنائے گی‘ وہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کا احتساب کرے گی‘ معیشت کو پٹڑی پر لائے گی اور پھر الیکشن کرا دے گی‘ سپریم کورٹ اس دوران حکومت پر نظر رکھے گی لیکن جب 7 اپریل کو فیصلہ آیا تو اس نے پوری قوم کو حیران کر دیا‘ یہ فیصلہ آئینی اور قانونی بھی تھا اور متفقہ بھی‘ آپ یقین کریں مجھے اس دن پہلی مرتبہ محسوس ہوا ہم اب رائٹ ڈائریکشن پر آ گئے ہیں‘ دنیا میں آج تک قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکا اور اس دن ججز نے یہ بنیاد رکھ دی‘ آپ اب صورت حال ملاحظہ کیجیے۔

23 مارچ سے 9 اپریل تک فوج کے لیے مارشل لاء لگانے کا آئیڈیل ٹائم تھا بس تین ٹرک اور دو جیپیں آنے کی دیر تھی اور پورے ملک نے سکھ کا سانس لے لینا تھا‘ ملک میں کسی سائیڈ سے فوج کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگنا تھا‘ سپریم کورٹ بھی اگر سات اپریل کو عبوری حکومت بنانے اور اپوزیشن اور حکومت دونوں کو جیل میں ڈالنے کا حکم جاری کر دیتی تو بھی ملک میں مٹھائیاں تقسیم ہونی تھیں لیکن فوج اور عدلیہ نے سامنے رکھی برفی نہ اٹھا کر نئی تاریخ رقم کر دی۔

میرا خیال تھا عوام اس آئین پسندی پر جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا شکریہ ادا کرے گی لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا‘ سوشل میڈیا پر خوف ناک اور واہیات ٹرینڈ شروع ہو گئے اور فوج اور سپریم کورٹ کو برا بھلا کہا جانے لگا‘ میں حیران ہوں آخر جنرل باجوہ اور چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کیا غلطی کر دی‘ ان کا کیا قصور ہے؟ کیا ہم انھیں مارشل لاء نہ لگانے اور آئین نہ توڑنے کی سزا دے رہے ہیں اورکیا انھیں آئین کی پابندی پر برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ میں سمجھ نہیں پا رہا۔

آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے کیا ہم من حیث القوم پاگل پن کا شکار نہیں ہو چکے‘ کیا ہماری کھوپڑیاں الٹی نہیں ہو چکیں؟ پوری دنیا کہہ رہی ہے عمران خان کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی‘ وزارت خارجہ عمران خان کی حکومت کے دوران خط کی تردید کر چکی ہے‘ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اعلامیہ جاری کر چکی ہے‘ حکومت سپریم کورٹ میں اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر سکی‘ اٹارنی جنرل نے اپنی حکومت کی وکالت سے انکار کر دیا۔

امریکا تین بار تردید کر چکا ہے‘ وہ روس جس کے دورے کو جواز بنا کر عمران خان سازش کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کا صدر ولادی میر پیوٹن سازشی اور امپورٹڈ وزیراعظم میاں شہباز شریف کو مبارک باد دے چکا ہے‘ اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑ گئے اور پارٹی کے اپنے 22 ارکان سائیڈ پر چلے گئے لیکن پی ٹی آئی سازش سازش اور غدار غدار کا نعرہ لگا رہی ہے۔

کیا عمران خان کا فرمایا ہوا قانون‘ آئین اور ملک تینوں سے زیادہ مقدم ہے؟ اور اگر عمران خان نے کہہ دیا ہے تو کیا پھر پورے ملک کو آئین رول بیک کر دینا چاہیے؟ دوسرا کوئی شخص مجھے صرف یہ بتا دے عمران خان آخر کر کیا رہا تھا جس کی وجہ سے امریکا نے اس کے خلاف سازش کی‘ کیا یہ اسلام آباد سے واشنگٹن تک کوئی سرنگ کھود رہا تھا یا اس نے مریخ پر فوجی اڈے بنا دیے تھے‘ آخر دنیا کو اس سے کیا خطرہ ہو سکتا تھا؟ پورا ملک اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے‘ کوئی ایک شعبہ بتا دیں جس میں ہم اپنے قدموں پر کھڑے ہوں لہٰذا ہم اگر فرض کر لیں امریکا واقعی ہمارا دشمن ہے اور یہ ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے تو اسے اس نیک کام کے لیے عمران خان سے بہتر شخص کہاں سے ملے گا؟

عمرانی حکومت اگر مزید سال چھ مہینے چلتی رہتی تو ہم اپنے ایٹمی پروگرام سے بھی محروم ہو جاتے‘ دوسرا بفرض محال اگر عمران خان کے خلاف واقعی سازش ہوئی تھی تو اس سازش کا فائدہ کس کو ہو گا؟ ہم اگر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل آتے ہیں‘ اگر آئی ایم ایف کا پیکیج ایکٹو ہو جاتا ہے‘اگر یورپی یونین ہماری پراڈکٹس کا کوٹا بڑھا دیتی ہے‘ ڈالر نیچے آ جاتا ہے‘ ایل این جی کی سپلائی بحال ہو جاتی ہے۔

سی پیک کی رفتار بڑھ جاتی ہے‘ ناراض بلوچ راضی ہو جاتے ہیں اور اگر ازلی مخالف سیاسی جماعتیں لڑائی بند کر کے ملک پر توجہ دیتی ہیں تو کیا یہ گھاٹے کا سودا ہے؟ کیا ہمیں پٹرول‘ گیس‘ ایکسپورٹس اور معاشی استحکام نہیں چاہیے اور کیا ہم سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ ہونا چاہتے ہیں‘ آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ کیا اس ملک میں رول آف لاء نہیں ہونا چاہیے؟ کیا عدم اعتماد غیر آئینی ہے اور کیا جب تک عمران خان اقتدار میں رہتے ہیں ہمیں عدم اعتماد آئین سے خارج کر دینی چاہیے‘ کیا جب تک ایم کیو ایم‘ باپ پارٹی‘ طارق بشیر چیمہ‘ شاہ زین بگٹی اور جی ڈی اے آپ کے ساتھ رہتی ہیں تو یہ اس وقت تک محب وطن ہوتی ہیں اور یہ لوگ جب کسی دوسری پارٹی کی طرف چلے جائیں تو یہ غدار اور امپورٹڈ ہو جائیں گے۔

اپوزیشن لانگ مارچ کرے تو یہ حرام ہے اور آپ کریں تو یہ جمہوریت اور عین عبادت ہے‘ فروغ نسیم آپ کا وزیر قانون ہو‘ اختر مینگل آپ کے ساتھ ہوں تو یہ ٹھیک ہیں اور یہ اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں تو یہ بکے ہوئے اور غدار ہیں‘ آپ پورا اسٹیٹ بینک اٹھا کر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیں تو یہ عین عبادت ہے اور ڈالر کو کنٹرول کرنے والے سازشی ہیں‘ ریاستی ادارے آپ کے لیے ایم کیو ایم‘ ق لیگ اور باپ پارٹی کو مینج کریں تو یہ محب وطن ہیں اور اگر یہ نیوٹرل ہو جائیں تو یہ سازش کا حصہ بن جاتے ہیں اور سپریم کورٹ اگر میاں نواز شریف کو سزا دے دے تو یہ مجاہد ہے اور یہ اگر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دے دے توآپ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور عدلیہ کو سوشل میڈیا کا واہیات ٹرینڈ بنا دیتے ہیں‘ کیا یہ ملک ہے یا پھر پاگل خانہ ہے؟ کیا اس پورے ملک میں کوئی سمجھ دار شخص نہیں بچا؟ کیا ہم عقل کے اندھوں میں پھنس گئے ہیں اور کیا کوئی بھی شخص ہمیں اللہ رسولؐ کا نام لے کر بے وقوف بنا جائے گا اور ہم اس کے پیچھے لگ کر اپنے رہے سہے ادارے بھی توڑ دیں گے۔

میں فوج اور عدلیہ دونوں کے سیاسی کردار کے خلاف ہوں‘ کسی ادارے کو سیاسی جماعتیں بنانے اور توڑنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے‘ آئین اس ملک کا کور ہے‘ یہ ٹوٹ گیا تو یہ ملک ورق ورق بکھر جائے گا‘ اسے توڑنے کا اختیار بھی کسی ادارے‘ کسی شخص کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔

وہ خواہ فوج ہو یا عدلیہ ہو یا پھرعمران خان لیکن اس وقت فوج اور عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے یہ کسی صورت قابل قبول نہیں‘ یہ ہمیں تباہ کر دے گا‘ یہ یاد رکھیں ہم نے اگر عمران خان کو نہ روکا تو یہ ملک تقسیم ہو جائے گا اور ہم افغانوں کی طرح بھیک مانگ رہے ہوں گے‘ ملک کی فکر کریں‘ یہ ملک واقعی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔