والد نے 70 ہزار کے عوض معذور شخص سے نکاح کرادیا ثنا

11 سال کی ہوں، نکاح نامے میں عمر 18سال سے زائد لکھوائی گئی ہے، تحفظ فراہم کیا جائے


Staff Reporter February 27, 2014
گزشتہ سال 708 بچوں کی کم عمری میں شادیاں کرائی گئیں، ضیا اعوان ایڈووکیٹ۔ فوٹو: فائل

گلشن اقبال بلاک 13-D کے قریب کچی آبادی میں مقیم 11سالہ لڑکی ثنا نے الزام عائد کیا ہے کہ والد محمد رمضان نے70ہزار روپے اورموٹر سائیکل کے عوض زبردستی اس کا نکاح22 سالہ معذور شخص اکبر سے کرادیا ہے۔

اس معاملے پر آواز اٹھانے کے بعد والد نے نانی کے خلاف اغوا کا جھوٹا مقدمہ بلال کالونی پولیس اسٹیشن میں درج کرادیا ہے اور اس تمام عمل کی سرپرستی منگھوپیر تھانے کا پولیس اہلکارکررہا ہے، بدھ کو مددگار ہیلپ لائن ٹرسٹ کے ضیا اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثنا نے بتایا کہ میری اصل عمر 11سال ہے لیکن نکاح نامے میں میری عمر 18سال سے زائد لکھوائی گئی ہے ، والد نے بڑی بہن عمرانہ کا بھی وٹہ سٹہ میں60 سالہ شخص جمیل سے نکاح کرادیا تھا، انھوں نے کہا کہ میں اور میری نانی اب چھپتے پھر رہے ہیں ،انھوں نے چیف جسٹس ،وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے اس واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے،ضیا اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2013میں ملک میں 708بچے اور بچیوں کی کم عمری میں زبردستی شادیاں کرائی گئیں جبکہ 2012 میں یہ تعداد 684 تھی ۔