جامعہ کراچی کی زمین پر قبضے کیخلاف حکم امتناع جاری

جامعہ کوگلستان جوہر بلاک ون میں 1954میں زمین الاٹ کی گئی تھی،وکلا،مدعا علیہان کو11مارچ کیلیے نوٹس جاری


Staff Reporter March 01, 2014
بھوجاایئر لائن متاثرین کومعاوضے کی ادائیگی پرحادثے کی تحقیقات روکنا چاہتی ہے،ہائیکورٹ میں درخواست فوٹو: فائل

ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر پر مشتمل سنگل بینچ نے جامعہ کراچی کی زمین پر قبضے کے خلاف دیوانی دعوے کی سماعت کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا ۔

مدعا علیہان کو 11مارچ کے لیے نوٹس جاری کردیے، جامعہ کراچی کی جانب سے ڈائریکٹر لیگل آصف مختار نے شعیب اشرف اور امیرالدین ایڈووکیٹس کے ہمراہ دعویٰ دائر کرتے ہوئے جامعہ فریدیا کے مہتمم مفتی اقبال نقشبندی،کے ڈی اے اور ایس ایچ او گلستان جوہرکو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ جامعہ کراچی کو گلستان جوہر بلاک ون میں 1954میں یہ زمین الاٹ کی گئی تھی ، جس کی دستاویزات اور نقشے عدالت میں پیش کیے جارہے ہیں ، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عرفان سعادت کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے بھوجا ایئرلائن کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات سے دستبردار ہونے کے لیے انتظامیہ کے دبائو کے خلاف متاثرہ بیوہ خاتون کی درخواست سماعت کیلیے منطور کرتے ہوئے مدعا علیہان کو 6مارچ کے لیے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔

درخواست گزار ساجدہ نے درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ بھوجا ایئرلائن کاطیارہB4-213 20اپریل کو کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے اسلام آباد کے قریب کورال کے مقام پر تباہ ہوگیا تھا،حادثے میں 127افراد جاں بحق ہوگئے تھے جس میں درخواست گزار کے شوہر گل زمان بھی شامل تھے، حادثے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانے میں درج کیا گیا ہے،ابتدا میں ایئرلائن انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کو فی کس 5لاکھ روپے معاوضہ دیا تھا جبکہ مطلوبہ کارروائی کے بعد فی کس 50لاکھ روپے فی کس معاوضہ غیرمشروط طور پر دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور اب مذکورہ رقم کی ادائیگی کے موقع پر متاثرہ خاندانوں کو ایک معاہدے پر دستخط کرنے کیلیے دبائو ڈالاجارہا ہے جس کے تحت متاثرہ خاندان ایئر لائن انتظامیہ کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے دستبردارہوجائے گا۔