حادثات میں ہلاک افراد کے اہلخانہ کو 10روز میں معاوضہ ادا کیا جائے سندھ ہائیکورٹ

عدالت نے این ایل سی کے اکائونٹس کی تفصیلات بھی پیش کرنیکا حکم دیاہے


Staff Reporter September 13, 2012
عدالت نے 2 کروڑ 20 لاکھ روپے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئےحکم دیا کہ رقم وصولی پر یہ رقم کسی منافع بخش سرکاری اسکیم میں لگادی جائے۔ فوٹو: فائل

JOHANNESBURG: سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد تسنیم پر مشتمل سنگل بینچ نے نیشنل لاجسٹک سیل( این ایل سی ) کے ٹریلرزکی زد میں آکر جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو معاوضے کی مد میں 2 کروڑ20لاکھ روپے 10دن میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

معاوضوںکی ادائیگی کے لیے این ایل سی کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں 16درخواستیں دائر ہیں ، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ رقم دس دن میں ناظرکے پاس جمع کرائی جائے ، گل محمد ، میربہر، محمد امین، شعیب،ناصراور صغرابی بی سمیت 16درخواست گزاروں نے دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزاروں کے رشتہ دار 1986 سے 1999 تک مختلف حادثات میں این ایل سی کے ٹریلرز کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے ہیں،عدالت نے درخواست گزاروں کے حق میںڈگری جاری کرتے ہوئے متاثرین کو معاوضہ اداکرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم12 سال بعد بھی معاوضہ نہیں دیا گیا،عامر مقصود ایڈووکیٹ نے کہا کہ 3مارچ 1999کو ہائیکورٹ درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہیں کی گئی تھی تاہم جب عدالت نے 11جون 2000میں ڈگری پر عملدرآمد کی درخواست پر نوٹس جاری کیے تو نیشنل انشورنس کمپنی کی جانب سے عبدالرئوف ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ اور اعتراضات داخل کیے، 9اگست 2012کو این ایل سی کی جانب سے لیفٹیننٹ کرنل پیش ہوئے انھوں نے فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ دینے کے بجائے بتایا کہ عدالت کے اس حکم سے جی ایچ کیو کو مطلع کردیا گیا ہے ۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے کہا کہ مزید کارروائی سے قبل مدعا علیہان کو مارک اپ سمیت تمام رقم 9کروڑ روپے ناظر کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا جائے جبکہ مدعا علیہان کے وکلا نے کہا کہ بنیادی رقم 2 کروڑ 20لاکھ روپے جمع کرانے کی اجازت دی جائے ، کیونکہ سود کی ادائیگی فی الوقت ممکن نہیں، عدالت نے 2 کروڑ 20 لاکھ روپے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ناظر کو حکم دیا کہ رقم وصولی پر یہ رقم کسی منافع بخش سرکاری اسکیم میں لگادی جائے،عدالت نے این ایل سی کے اکائونٹس کی تفصیلات بھی پیش کرنیکا حکم دیاہے۔