بنگال ٹائیگرز آپس میں الجھ پڑےٹیم میں پھوٹ پڑگئی

افغانستان سے ہار کے بعد کپتان اور کوچ نے بورڈ چیف کے سامنے شکایات کا انبار لگادیا


Sports Desk March 04, 2014
افغانستان سے ہار کے بعد کپتان اور کوچ نے بورڈ چیف کے سامنے شکایات کا انبار لگادی۔ فوٹو : ایکسپریس

مسلسل ناکامیوں کے بعد بنگال ٹائیگرز آپس میں ہی الجھ پڑے، ٹیم میں پھوٹ پڑگئی۔

افغانستان سے میچ میں شکست کے بعد کپتان مشفیق اور کوچ جرجینسن بورڈ کے صدر نظم الحسن کے سامنے پھٹ پڑے، چار پلیئرز کی چھٹی کا مطالبہ کردیا، بی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں سے مزید سختی برتنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے ہاتھوں ایشیا کپ میچ میں شکست کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم جہاں ایک طرف اعتراضات کی زد میں ہے وہیں اس میں پھوٹ بھی پڑچکی ہے، رواں برس اب تک بنگال ٹائیگرز نے تمام فارمیٹس کے 9 میچز ہوم گراؤنڈز پر کھیلے جس میں سے ایک میں بھی فتح ہاتھ نہیں آئی، یہ وہی ٹیم ہے جس نے چار ماہ قبل نیوزی لینڈ کو اپنی سرزمین پر ون ڈے سیریز میں 3-0 سے آؤٹ کلاس کیا تھا، حیرت اس بات پر ظاہر کی جارہی ہے کہ چند ماہ میں ایسا کیا ہوگیا ۔

جس کی وجہ سے بنگال ٹائیگرز افغانستان جیسی ناتجربہ کار ٹیم کے سامنے بھی نہیں ٹھہر پائے، شکیب الحسن کی ابتدائی 2 میچز میں پابندی کا بہانہ بھی نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ کیویز سے سیریز وہ انجری کے باعث کھیلے ہی نہیں تھے۔ گذشتہ روز بی سی بی کے صدر نظم الحسن نے کپتان مشفیق الرحیم اور کوچ جرجینسن کو طلب کیا اور خراب کارکردگی کی وجوہات جانیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نے چار پلیئرز کو مسائل کی جڑ قرار دیا، ان میں ناصرحسین، عبدالرزاق، سوہاگ غازی اور روبیل حسین شامل ہیں، ان پر سب سے زیادہ تنقید بھی ہورہی ہے کہ کیونکہ چاروں آؤٹ آف فارم ہونے کے ساتھ میدان میں لڑنے کے جذبے سے بھی عاری دکھائی دیتے ہیں۔ میٹنگ میں یہ بھی جائزہ لیا گیا کہ کھلاڑیوں کی حال ہی میں ہونے والی مہنگی کمرشل ڈیلز تو لاپرواہی کی وجہ نہیں ہیں، مشفیق الرحیم کو تسلسل سے اچھا پرفارم کرنے پر کچھ نہیں کہا گیا۔ اس موقع پر نظم الحسن نے واضح کیا کہ کھلاڑیوں کے خلاف پالیسیز کو مزید سخت کیا جارہا ہے،کوئی پلیئر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہواس سے بھی رعایت نہیں برتی جائے گی۔