بیوہ ماں کا سہارا ختم کئی بچے یتیم ہوگئے والدین اشک بار

شاہد واحد کفیل تھا،کامران کی کچھ دنوں بعد شادی تھی،3 بہنوں کے بھائی کو بھی آگ نے نگل لیا


Staff Reporter September 13, 2012
شاہد واحد کفیل تھا،کامران کی کچھ دنوں بعد شادی تھی،3 بہنوں کے بھائی کو بھی آگ نے نگل لیا۔ فوٹو رائٹرز

بلدیہ ٹائون میں فیکٹری کی آگ نے بیوہ ماں کا جوان بیٹا بھی چھین لیا۔

کئی بچوں کو باپ کے سائے سے محروم کردیا اور کئی والدین کے اپنی اولاد کے سروں پر سہرا سجانے کے خواب چکنا چور کردیے۔ بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری علی انٹرپرائزز کی خوفناک آگ نے جہاں کئی خاندان اجاڑ دیے وہاں ایک بیوہ ماں کا جوان بیٹا بھی چھین لیا 24 سالہ شاہد ولد یعقوب بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔ فیکٹری کے قریب رہائش تھی، ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے اس کی ماں کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ، بوڑھی ماں اپنے جوان بیٹے کی یادیں دل میں لیے حسرت و یاس اور بے بسی کی تصویر بن گئی۔ 26 سالہ کامران ولد محمد اسحاق بھی جاں بحق ہوا ۔

فیکٹری کے قریب واقع اپنی رہائش گاہ پر محمد اسحاق نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کامران کی ہلاکت کے بعد وہ اس کے سر پر سہرا سجانے کا خواب پورا نہ کرسکے ، ان کا کہنا تھا کہ کامران گزشتہ کافی عرصے سے فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا ، اس کی کچھ ہی دنوں میں شادی ہونے والی تھی ، انھوں نے بتایا کہ اپنے بیٹے کی شناخت انھوں نے اس کی جیب سے ملنے والے فیکٹری کے کارڈ کے ذریعے سول اسپتال میں کی جس کے بعد اسے گھر لے آئے اور بدھ کی دوپہر مواچھ گوٹھ قبرستان میں سپرد خاک کردیا ، اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں۔

ہلاک ہونے والے جاوید کے بچوں کے سروں سے ان کے والدین کا سایہ اٹھ گیا ، جاوید کے رشتے داروں نے بتایا کہ جاوید اپنی اہلیہ کے ہمراہ فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا اور آگ لگنے کے باعث دونوں ہی اندر پھنس گئے ، آگ کی اطلاع ملنے کے بعد وہ سول اسپتال پہنچے جہاں انھوں نے جاوید کو شناخت کیا، انھوں نے بتایا کہ جاوید کی اہلیہ کی تلاش جاری ہے جوکہ تاحال نہیں مل سکی اور اس کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔ فیکٹری کے قریب ہی رہائش پذیر شہباز بھی مرنے والوں میں شامل ہے جو تین بہنوں کا لاڈلہ بھائی تھا۔