صوبائی وزیر صحت کا تعین نہ ہوسکا قلمدان وزیراعلیٰ کے پاس ہے

صوبے میں نیوٹریشن پروگرام شروع کرنے کیلیے 4ارب روپے جاری کرنے کے احکام


Staff Reporter March 08, 2014
صوبے میں نیوٹریشن پروگرام شروع کرنے کیلیے 4ارب روپے جاری کرنے کے احکام۔ فوٹو: فائل

HARIPUR: صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو10ماہ مکمل ہوگئے لیکن حکومت صوبائی وزیر صحت کا تعین نہیں کرسکی۔

صوبائی محکمہ صحت وزیرکے بغیرچل رہا ہے، تمام ترمصروفیت کے باوجودوزیر اعلیٰ سندھ نے وزارت صحت کاقلمدان بھی اپنے پاس رکھاہوا ہے، دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علیشاہ نے صوبے میں پہلی بارنیوٹریشن پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیاہے اورفوری طورپر اس پروگرام کیلیے 4ارب روپے جاری کیے جائیںگے، یہ پروگرام صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت کام کریگا جس کی سربراہ ڈاکٹر درشہوار ہوں گی، محکمہ کے سیکریٹری اقبال درانی نے بتایاکہ وزیر اعلی سندھ نے اندرون سندھ میں غذائی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے تھرکے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسرکو معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں، انھوں نے بتایا کہ نیوٹریشن پروگرام کے تحت بچوں میں غذائی کمی کو پوراکرنے کیلیے ہنگامی بنیادون پر کام شروع کردیاگیا ہے جس میں مختلف ماہرین کو بھی شامل کیاجارہا ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر درشہوار ورلڈ فوڈ پروگرام جوعالمی ادارہ کے ماتحت کام کررہا ہے اس کی بھی سربراہ ہیں، واضح رہے کہ صوبائی محکمہ صحت میںمحکمہ کا وزیر نہ ہونے سے صحت کے مسائل ہولناک صورت اختیارکرتے جارہے ہیں،گزشتہ سال بھی اندرو سندھ میں خسرہ کی وبا سے ہزاروں بچے لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ امسال تھر میں100سے زائد بچے غذائی قلت، خوراک نہ ملنے کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے جس پر وزیرا علیٰ سندھ صورتحال کا جائزہ لینے کیلیے تھر پہنچ گئے۔