خواتین کا عالمی دن پر حقوق کی جدوجہد تیز کرنے کا عزم

عالمی یوم خواتین پر آرٹس کونسل میں تقریب سے رکن اسمبلی ارم فاروقی،جسٹس (ر)ماجدہ رضوی اور انیس ہارون کا خطاب


Staff Reporter March 09, 2014
عالمی یوم خواتین کے موقع پر پریس کلب کے سامنے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے مظاہرے کے دوران علامتی طور پر خاتون کو ہتھکڑی ڈال کر امریکی صدر کے ہاتھوں زیر حراست دکھایاجارہاہے جبکہ بچے اور خواتین پلے کارڈ لیے احتجاج کررہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی

QUETTA: شہر میں ہفتہ کو خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا گیا،خواتین کے حقوق کیلیے تقاریب سیمینار اور مظاہرے کیے گئے، خواتین کے عالمی دن پر مددگار نیشنل ہیلپ لائن نے خواتین کے بارے میں رپورٹ جاری کردی۔

تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل کراچی کی خواتین کمیٹی ، ہیومن رائٹس،عورت فاؤنڈیشن اور ہینڈزکے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں رکن اسمبلی سندھ ارم فاروقی نے کہا کہ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے ہمت و عزم سے کام لیکر جدوجہد تیز کرنی ہوگی، ہماری خواتین بہت محنتی اور جفا کش ہیں تاہم انھیں ان کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا اس سلسلے میں خواتین میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے حکومت کو عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے چا ہئیں، ہیومن رائٹس کمیشن کی چیئر پرسن جسٹس (ر) ماجدہ رضوی،عورت فاؤنڈیشن کی انیس ہارون ، شیخ تنویر اور دیگرنے اس امر پر زور دیا کہ عورت کو سیاسی و سماجی طور پر مستحکم بنایا جا ئے اور اس سلسلے میں حکومت کو عملی اقدامات انجام دینے ہو نگے، عورت کو سیاسی دھا رے میں شامل تو کرلیا گیا ہے لیکن اسے اہم ملکی امور سے دور رکھا گیا ہے ،سیمینار میں دہشت گردی کے شکار جج،وکلا خصوصا نوجوان خا تون وکیل فضا کی شہادت پر رنج و غم کا اظہا ر کیا گیا،تقریب میں کائنات سومرو اور پروین بی بی نے زندگی کی مشکلات اور اپنی جدو جہد کی داستان سنائی۔

آرٹس کونسل خواتین کمیٹی کی چیئر مین ڈاکٹرفوزیہ خان نے کہا کہ ہم نے خواتین کے لیے کمیٹی ترتیب دی ہے جس کے تحت یہ پہلا پروگرام ہے اسی طرح خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کے بہت سے پروگرام ترتیب دیے جارہے ہیں،اس موقع پر سبین سیف اور شاہدہ اسرار کنول نے نظمیں جبکہ فرزانہ اور گلِ یا سمین نے گیت پیش کیے جبکہ شیما کرمانی اور ان کے شاگردوں نے عورت کی کہانی پر رقص پیش کیا، عالمی یوم خواتین پر پیپلزپارٹی منارٹی ونگ شعبہ خواتین کے تحت ہفتہ کو پیپلزسیکریٹریٹ میں تقریب منعقد ہوئی جس میں پی پی منارٹی ونگ کراچی کے صدر مشتاق مٹو ،نوید بھٹی ،مریم باجی ،روما مٹو نے شرکت کی، تقریب میں پی پی شعبہ خواتین کی کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہوئیں، تقریب سے خطاب میں رہنماؤں نے کہا کہ عالمی یوم خواتین منانے کا مقصد خواتین کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرنا ہے،انھوں نے کہا کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جس نے ہمیشہ خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔

پاسبان خواتین کے تحت سیمینار سے مرکزی صدر سیما شیخ نے کہا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پوری دنیا کی خواتین عافیہ صدیقی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہیں، خواتین کے ساتھ معاشرے میں دوہرا رویہ ا ختیار کیا جاتا ہے عورتوں کو ماڈل اور پبلسٹی کا ذریعہ بنادیا گیا ہے،خواتین کے حقوق کے نام ونہاد علمبردار خواتین کے حقوق غصب کررہے ہیں اور عورت کو تماشا بنادیا گیا ہے، اسلام نے سب سے زیادہ حقوق خواتین کو دیے ہیں، ہیومن رائٹس نیٹ ورک خواتین ونگ کے تحت خواتین کے عالمی دن پر پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے ہیومن رائٹس نیٹ ورک کراچی کے صدر انتخاب عالم سوری ، شہزاد مظہر ، طارق خان ، شگفتہ انیس شیخ شکیل اور دیگر نے خطاب کیا، مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور لاپتہ افراد کے معاملے کا نوٹس لے اور مغرب اپنا دہرہ معیار ختم کرے، خواتین کے عالمی دن پر مددگار نیشنل ہیلپ لائن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال2013 میں ملک بھر میں زیادتی، غیرت اور دیگر وجوہات کی بنا پر1601سے زائد لڑکیوں اور عورتوں کو قتل کیا گیا، یہ تعداد صرف ان واقعات کی ہے جو درج ہوسکے، اگر عورتوں کے قتل کے تمام واقعات درج ہوجائیں تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔

ہیلپ لائن کے بانی ضیا اعوان ایڈووکیٹ کے مطابق سال 2013 کے دوران ملک بھر میں 370 عورتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی جبکہ 185 کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی، 2133 عورتوں پر تشدد ہوا جن میں سے887 خواتین پولیس تشدد کا شکار ہوئیں اسی طرح گزشتہ سال608 عورتیں اغوا ہوئیں اور 406کی جبری شادی کی گئی جن میں ونی کی گئی176بچیاں بھی شامل ہیں،217عورتیں زیادتی کے بعد قتل کی گئیں،220 عورتوں کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا اور 1164عورتوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا جبکہ 452 عورتوں نے گزشتہ سال خود کشی کی،193عورتیں جلائی گئیں، 205عورتوں کی اسمگلنگ ہوئی جبکہ 220خواتین مختلف وجوہات کے باعث گھر سے بھاگیں، گزشتہ سال عورتوں کے خلاف واقعات کی کل تعداد6516 ہے جن میں سے سب سے زیادہ 2602 واقعات پنجاب سندھ میں1883، خیبر پختونخوا میں 1181اور بلوچستان میں 846 واقعات ریکارڈ کیے گئے، خواتین کے عالمی دن پر لال قلعہ گرامر اسکول و کالج میں منعقدہ تقریب سے ادارے کی سربراہ شازیہ فاطمہ نے خطاب میں کہا کہ خواتین کے بغیر سلسلہ حیات ایک پل بھی نہیں چل سکتا لیکن مہذب دنیا کا خواتین کے نام پر ایک دن کا خراج تحسین بھی بہت عنایت ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ عورت ہر شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کا ہاتھ بٹا کر بھی امتیازی سلوک اور معاشرتی زیادتیوں کا شکار ہے،تقریب سے غزالہ شاہین،شاہدہ ندیم،صوبیہ سلطان،زرین تکریم اور دیگر اساتذہ نے خطاب کیا۔