ریٹیلرز پر10ہزار روپے سالانہ کم از کم ٹیکس لگانے پر غور

15 لاکھ سے زائد ہول سیلرز اور پرچون فروشوں پرکم از کم ٹیکس عائدکیے جانے سے20ارب روپے کا اضافی ریونیوملے گا


Irshad Ansari March 09, 2014
ایف بی آرتجویزنئے بجٹ میں شامل کرنے پرغورکررہاہے،90فیصدریٹیلرز4لاکھ روپے سے زائدآمدنی کے باوجودٹیکس نہیںدیتے،ذرائع فوٹو : فائل

وفاقی حکومت کی طرف سے آئندہ مالی سال 2014-15 کے وفاقی بجٹ میں 15 لاکھ سے زائد ہول سیلرز اور پرچون فروشوں (ریٹیلرز) پر 10 ہزار روپے سالانہ کے حساب سے کم از کم ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایف بی آر مذکورہ تجویز کو آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حصہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاکھوں ہول سیلرز اور پرچون فروشوں پر 10ہزار روپے سالانہ کم از کم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو آئندہ بجٹ کا حصہ بنانے کی صورت میں ایف بی آر کو آئندہ مالی سال کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 20ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ ایف بی آر کے مذکورہ افسر نے بتایا کہ ملک میں 15 لاکھ سے زائد ہول سیلرز اور ریٹیلرز میں 90 فیصد کے لگ بھگ ایسے لوگ ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں اور ریٹرن بھی جمع نہیں کراتے ہیں جبکہ اکثریت ہول سیلرز اور ریٹیلرز ایسے ہیں جن کی سالانہ آمدنی قابل ٹیکس آمدنی کے لیے مقررہ 4 لاکھ روپے کی حد سے زائد ہے مگر وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے کرائی جانے والی اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس وقت ملک میں ہول سیل اینڈ ریٹیلرز کی مجموعی تعداد 15 لاکھ سے زائد ہے جن میں موٹر گاڑیاں فروخت و مرمت کرنے والے، ہول سیل ٹریڈ، ریٹیل ٹریڈ اور کمیشن ایجنٹس شامل ہیں۔

مذکورہ افسر کے مطابق ایف بی آر کو موصول ہونے والی رپورٹ میں سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق 15 لاکھ سے زائد ہول سیلرز اور پرچون فروشوں(ریٹیلرز)میں 85 فیصد کے لگ بھگ ریٹیل ٹریڈرز ہیں اور11 فیصد موٹر گاڑیوں کے مکینک اور گاڑیوں کے فروخت کنندگان ہیں جبکہ 4فیصد ہول سیلرز ہیں، ہول سیلرز اور ریٹیلرز میں سے 54 فیصد تعداد سگریٹ، فوڈ اور بیوریجز فروخت کرنے والوں کی ہے جن میں سے 80فیصد یونٹس شہروں میں ہیں، ہول سیلرز اور ریٹیلرز میں سے 62.2 فیصد پنجاب، 19.9 فیصد سندھ، 14.6فیصد خیبر پختونخوا اور2.7 فیصد یونٹس بلوچستان میں ہیں جبکہ0.6فیصد یونٹس وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ہیں۔ ایف بی آر کے مذکورہ افسر کا کہنا ہے کہ مذکورہ 15 لاکھ ہول سیلرز اور ریٹیلرز پر 10ہزار سالانہ کے حساب سے کم ازکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی منظوری کی صورت میں ایف بی آر کو آئندہ مالی سال کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 20 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔