نصاب کی تبدیلی سائنس اور معاشرتی علوم ختم معلومات عامہ کا مضمون متعارف

نصاب کی تبدیلی کے باوجود مضامین کے مسودے پبلشرزکو فراہم نہیں کیے گئے، نصاب کی بروقت فراہمی ناممکن ہوگئی


Staff Reporter March 11, 2014
نصاب کی تبدیلی کے باوجود مضامین کے مسودے پبلشرزکو فراہم نہیں کیے گئے، نصاب کی بروقت فراہمی ناممکن ہوگئی. فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ تعلیم نے سندھ میں نصاب کی تبدیلی کاآغاز کردیا ،20 روز بعد شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کے موقع پر پرائمری جماعتوں میں سائنس اور معاشرتی علوم کے مضامین ختم کر کے ''معلومات عامہ''( جنرل نالج ) کا مضمون متعارف کروایاجارہاہے۔

اردو، سندھی اور انگریزی کے مضامین کا نصاب بھی تبدیل کردیا گیاہے ،نصاب کی تبدیلی کے باوجود کئی مضامین کی کتابوں کے مسودے تاحال پبلشرزکوچھپائی کے لیے فراہم نہیں کیے جاسکے ہیں جس کے سبب یکم اپریل سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کے موقع پرکراچی سمیت سندھ کے اسکولوں میں نصاب کی بروقت فراہمی ناممکن ہوگئی ہے،صوبائی محکمہ تعلیم کی عدم دلچسپی اورسندھ ٹیکسٹ بک بورڈکے قائم مقام چیئرمین کی نااہلی کے سبب رواں سال درسی کتب کے ایک بڑے بحران کاخدشہ پیدا ہوگیاہے،صوبائی محکمہ تعلیم نے پہلی سے چوتھی جماعت میں سائنس اور معاشرتی علوم کے مضامین ختم کردیے ہیں اورتعلیمی سال 2014/15کے لیے سائنس اور معاشرتی علوم کے مضامین کوضم کرکے معلومات عامہ کامضمون متعارف کروایاجارہاہے تاہم اس کی کتابیں جزوی طورپر پبلشرزکوچھپائی کے لیے فراہم کی گئی ہیں،دوسری جانب پہلی سے چوتھی جماعت تک اردو ، سندھی اورانگریزی کا نصاب بھی تبدیل کیاجارہاہے ۔

پبلشرزکو ان مضامین کا پرانا نصاب چھاپنے سے روکاگیاہے لیکن تاحال نئے نصاب کے مطابق اردو، سندھی اور انگریزی کے مضامین کا مسودہ پبلشرزکو فراہم ہی نہیں کیا جاسکاہے، سندھ میں نیا تعلیمی سال شروع ہونے میں صرف 20روزباقی رہ گئے ہیں، واضح رہے کہ محکمہ تعلیم کی نااہلی کے سبب اس وقت سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ میں کوئی مستقل چیئرمین ہی تعینات نہیں ہے ، مستقل چیئرمین کے تبادلے کے بعد محکمے نے ایڈیشنل سیکریٹری اسکول ذاکرشاہ کوسندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کااضافی چارج دے رکھاہے ، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے قائم مقام چیئرمین کی نااہلی اورناتجربے کاری کے سبب امکان ہے کہ اس بار کراچی سمیت سندھ بھرمیں درسی کتب کا بحران ہوگا اور یکم اپریل تک سندھ کے سرکاری اسکولوں میں درسی کتب کی مفت تقسیم نہیں ہوسکے گی ۔