صوبے کے 5برنس سینٹرز کی تعمیرات مکمل نہیں کی جا سکیں

تین سال گزرنے کے باوجود کراچی سمیت صوبے میں 5 بزنس سینٹر قائم نہیں کیے جا سکے


Staff Reporter September 14, 2012
اندرون سندھ سے کراچی کے بزنس سینٹر منتقلی کے وقت قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور ان میںسے بیشتر مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ صحت نے گذشتہ مالی سال میں صوبے بھر میں 5جدید برنس سینٹر قائم کرنے کیلیے اسکیمیں مختص کی تھیںجو منظور کرلی گئیں لیکن تین سال گزرنے کے باوجود کراچی سمیت صوبے میں 5 بزنس سینٹر قائم نہیں کیے جا سکے۔

یہ بزنس سینٹرزسندھ گورنمنٹ لیاقت آباد اسپتال، لیاقت یونیورسٹی و اسپتال جامشورو حیدرآباد،چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ ، غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر،سول اسپتال میرپورخاص میں تعمیر ہوناتھا۔

تاہم مقررہ معیاد گزرنے کے بعد بھی بزنس سینٹرزمکمل نہیںکیے جا سکے،کراچی سمیت صوبے کے اسپتالوں میں بزنس سینٹرزکی اسکیمیں وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد نے منظورکرائی تھیں تاکہ کراچی سمیت صوبے بھر کے مختلف علاقوں میںسلنڈر پھٹنے،آگ لگنے،تیزاب سے جلنے اور مختلف واقعات وحادثات میں جھلس کرہونے والے زخمیوں کوکراچی لانے کی بجائے انہی کے علاقوں میں سہولتیں فراہم کی جاسکیں لایا جاتاہے اورمریضوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے ۔

اندرون سندھ سے کراچی کے بزنس سینٹر منتقلی کے وقت قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور ان میںسے بیشتر مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں ، اندرون سندھ کے اسپتال میں برنس سینٹر کی سہولیات موجود نہ ہونے سے ہر سال سیکڑوں مریض کراچی کے برنس سینٹر میں منتقل کیے جاتے ہیں جن میں سے متعد د مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں ، مریضوں کو کراچی منتقلی کے دوران مالی مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔