نواز‘ عمران ملاقات…مثبت پیش رفت

ملک کے سیاسی منظرنامے پر رونما ہونے والے یہ دو اہم واقعات جن کا بنیادی تعلق طالبان سے مذاکرات سے ہے


Editorial March 13, 2014
وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کا قیام ہم سب کی اجتماعی ذمے داری ہے. فوٹو؛ این این آئی/فائل

PESHAWAR: ملک کے سیاسی منظرنامے پر رونما ہونے والے یہ دو اہم واقعات جن کا بنیادی تعلق طالبان سے مذاکرات سے ہے' اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور اسے نتیجہ خیز بنانے کے لیے پر خلوص اقدامات اٹھا رہی ہے۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم نواز شریف کا ملک میں امن و امان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے عمران خان کی رہائش گاہ پر جانا ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی غمازی کرتا ہے۔ اس سے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ حکومت ملکی پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تنہا کوئی قدم اٹھانے کے بجائے مفاہمانہ راستہ اپنائے ہوئے ہے اور اس کے لیے اپنے سیاسی مخالفین کو بھی اعتماد میں لے رہی ہے جس کی واضح مثال وزیراعظم نواز کی موجودہ پالیسی ہے کہ وہ اپوزیشن کے خلاف کسی قسم کی بیان بازی سے قطعی گریز کر رہے ہیں۔ انھوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر زرداری سے بھی خوشگوار تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ خود چل کر اپنے سیاسی حریف عمران خان کے گھر گئے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان میں ہونے والی ملاقات میں اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ طالبان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کے عمل کو جاری رکھا جائے۔

دونوں رہنماؤں میں پہلی بار خوشگوار ماحول میں ہونے والی بالمشافہ ملاقات کے ملکی سیاست پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت ،وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی چلی آ رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان میں یہ اتفاق پایا گیا کہ طالبان سے مذاکرات ناکام بنانے کی کوشش کرنے والی قوتوں کو بھی شناخت کیا جائے اور جو گروپ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے انھیں تنہا کیا جائے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ ایک دوسرے کی سیاسی مخالف جماعتیں اس ملاقات میں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بارے میں تعریفی کلمات ادا کیے۔ عمران خان نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ نے دباؤ کے باوجود اچھے فیصلے کیے' انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بھی تعریف کی۔ وزیراعظم آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کا قیام ہم سب کی اجتماعی ذمے داری ہے جس کے لیے پوری قوم اور تمام سیاسی قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے اب تک طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے جو حکمت عملی اپنائی ہے وہ درست سمت جا رہی ہے۔ انھوں نے ملکی سلامتی سے جڑے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے اے پی سی بلائی اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لیا۔ وہ قوتیں جو طالبان سے مذاکرات کی حامی اور حکومت پر تنقید کر کے اس پر دباؤ بڑھانے میں مصروف عمل ہیں' اب وزیر اعظم نواز شریف ان سے بھی انفرادی طور پر ملاقات کر کے انھیں اعتماد میں لے رہے ہیں۔

اب جب طالبان سے مذاکرات رابطہ کاری کے مرحلے کے بعد نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں تو ایسے میں یہ زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جائے اور اگر اس مرحلے میں حکومت اور سیاسی قوتوں میں اختلافات جنم لیتے ہیں تو اس سے جہاں حکومتی ساکھ متاثر ہو گی وہاں امن و سلامتی کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے بھی موثر ثابت نہ ہو سکیں گے اور ملک مسلسل بدامنی کا شکار رہے گا۔ حکومت کی سنجیدگی اور خلوص کا انداز اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے مذاکرات کو زیادہ موثر اور کامیاب بنانے کے لیے نئی طالبان مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ بیورو کریٹس پر مشتمل اس چار رکنی کمیٹی میں سیکریٹری جہاز رانی و بندر گاہ حبیب اللہ خٹک' ایڈیشنل سیکریٹری فاٹا ارباب عارف' وزیراعظم کے ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور رستم شاہ مہمند شامل ہیں۔ اب جو نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں شامل تمام افراد نہایت تجربہ کار اور علاقائی صورتحال سے مکمل باخبر ہیں۔ امید ہے یہ کمیٹی اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی ۔وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے درمیان ملاقات کے موقع پر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے تحریک انصاف کی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور یقین دلایا کہ تحریک انصاف اور دیگر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ عمران خان نے حکومتی موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے وزیراعظم کے اقدامات کو سراہا۔ وزیراعظم نواز شریف نے جس طرح درست قدم اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اعتماد میں لیا ہے امید ہے کہ وہ عوامی نمایندگی کرنے والی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی جلد اعتماد میں لیں گے تاکہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے والی قوتیں اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ امید ہے کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے حکومتی کوششیں بار آور ہوں گی اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔