مزاحیہ اداکاری کا ایک اور باب بند لیجڈ لہری بھی طویل علالت کے بعد دنیا سے رخصٹ ہوگئے

1985 میں سری لنکا میں فالج کاحملہ ہوا جس کے بعداداکاری نہیں کرسکے،گورنرووزیراعلیٰ کی تعزیت


Cultural Reporter September 14, 2012
1985 میں سری لنکا میں فالج کاحملہ ہوا جس کے بعداداکاری نہیں کرسکے، لہری اپنے کردارخودتخلیق کیاکرتے تھے،گورنرووزیراعلیٰ کی تعزیت۔فوٹو: فائل

پاکستان میں مزاحیہ اداکاری کاایک اورباب بندہوگیا۔

پاکستان فلم انڈسٹری میں بہترین اداکاری اورعمدہ مزاحیہ کردار نگاری سے شہرت حاصل کرنے والے لیجنڈ لہری (سفیراﷲ) 28 سال کی طویل علالت کے بعد زندگی کی بازی ہار گئے۔ وہ جمعرات کی صبح دنیا سے رخصت ہوگئے۔

ان کی عمر83 سال تھی،لہری کانپور (بھارت ) میں پیدا ہوئے،پاکستان آنے کے بعد تھیٹر سے وابستہ رہے،1955میں فلم انڈسٹری میں قدم رکھا ان کی پہلی فلم ''انوکھی'' تھی جس میں بھارتی اداکارہ شیلا نے ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا، لہر پر 1985میں سری لنکا میں ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا حملہ ہوا جس کی وجہ سے ان کے دائیں بازو اور ٹانگ پر اس کے اثرات مرتب ہوئے جس کے بعد وہ دوبارہ اداکاری کے شعبے میں کام نہیں کرسکے۔ ان کی آخری فلم بابو تھی جو 2000 میں ریلیز کی گئی۔انھوں نے 250سے زائد فلموں میں ادکاری کا مظاہرہ کیا،وہ اپنے کردار خود تخلیق کیاکرتے تھے۔

سوگواروں میں5بیٹے،2بیٹیاں اوراہلیہ شامل ہیں۔ مرحوم کی نمازجنازہ بعدنماز عصر بیت المکرم مسجد گلشن اقبال میں ادا کی گئی اور انھیں یاسین آباد قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردخاک کردیا گیا،نماز جنازہ میں نامور سماجی،سیاسی ثقافتی، شخصیات نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ،لہری کی تدفین اور نماز جنازے کے تمام انتظامات متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے ادا کیے،مرحوم کاسوئم ہفتے کوبعدنمازعصرتامغرب ان کی رہائش گاہ ونڈرٹاور کے نزدیک مسجد طیبہ میں ہوگا۔اداکارلہری کی فلم انڈسٹری میں انفرادیت ہی ان کی پہچان تھی،صوبائی وزراء اورسیاست دانوں نے لہری کی وفات پررنج وغم کااظہارکرتے ہوئے اسے تنز ومزاح کی دنیا کاعظیم نقصان قراردیا ہے ۔

گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اوروزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے لہری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے،گورنر اور وزیراعلیٰ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ لہری ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ تھے ۔دریں اثنا لہری نے پاکستان کی فلم انڈسٹری میں57سال میں 250سے زائد فلموں میں یادگارکردار ادا کیے، ان کی بیشتر فلموں نے باکس آفس پرکامیابی حاصل کی،ان فلموں میںانوکھی، ناگن، انسان بدلتا ہے،یہ دنیا،فیصلہ، سویرا، رات کے راہی، انصاف،سہیلی اولاد،سسرال، عشق پر زور نہیں ، دامن ، باجی،توبہ،پیغام، آگ کا دریا،محل،دیور بھابی، انجمن ،لاڈلا، سلام محبت، انصاف اور قانون، میرے ہمسفر، پھو ل میرے گلشن کا، تم سلامت رہو،سہرے کے پھول،زینت، راستے کا پتھر،آج اور کل،اف یہ بیویاں، بیوی ہو تو ایسی،نادانی اور آخری فلم بابو قابل ذکر ہیں۔

مقبول خبریں