دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنے والے سابق امریکی صدر بُش مصور بن گئے

جارج بش کے فن پاروں کی نمائش آئندہ ماہ امریکی شہر ڈلاس کی میتھو ڈسٹ یونیورسٹی میں ہوگی


ویب ڈیسک March 18, 2014
امریکا کے 43ویں صدر ہونے کی مناسبت سے سابق صدر اپنی ہر پینٹنگ پر نام کے بجائے 43 کا ہندسہ لکھتے ہیں۔ فوٹو: فائل

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا بھر کو آگ میں جھونکنے والے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش نے مصوری شروع کردی ہے اور ان کے فن پاروں کی اولین نمائش آئندہ ماہ ہوگی۔

جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو مرتبہ منصب صدارت پر فائز رہنے والے جارج ڈبلیو بُش نے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی مشہور زمانہ کتاب 'فرصت میں مصوری' پڑھنے کے بعد مقامی استاد سے مصوری کی باقاعدہ تربیت لی۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد جارج بش نے اپنی سوچ کے مطابق بعض عالمی لیڈروں کے پورٹریٹ بنانے کے علاوہ ساکت زندگی کو کینوس پر اتارنے کی کوشش شروع کی۔ اس دوران انہوں نے جانوروں کی پینٹنگز بنانے کا آغاز بھی کیا۔ ان میں سے ایک ان کے اس کتے کا بھی پورٹریٹ ہےجو 2013 میں مر گیا تھا۔

دنیا کا ہر مصور اپنے فن پارے پر اپنا نام لکھتا ہے لیکن امریکا کے 43ویں صدر ہونے کی مناسبت سے سابق صدراپنی ہر پینٹنگ پر نام کے بجائے 43 کا ہندسہ لکھتے ہیں۔ جارج ڈبلیو بُش نے اپنے فن پاروں کی نمائش کا اعلان کیا ہے۔ ڈلاس کی جنوبی میتھوڈِسٹ یونیورسٹی کے جارج ڈبلیو بُش سینٹر میں منعقد کی جانے والی اس نمائش کا عنوان ''لیڈرشپ کا فن، ایک صدر کی ذاتی سفارت کاری'' (The Art of Leadership: A President's Personal Diplomacy) رکھا گیا ہے جس میں جہاں ان کی تصاویر کی نمائش کے علاوہ اس بات کو بھی اجاگر کیا جائے گا کہ سابق امریکی صدر دوسرے ہم عصر عالمی لیڈروں کے ساتھ کس انداز کا منفرد تعلق رکھتے تھے۔