ٹرانسپورٹ کے فرسودہ نظام طالبات اور خواتین کو ذہنی مریض بنا دیا

خواتین کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا، کام کرنے والی خواتین کی تعداد 18لاکھ ہے،بسیں اور کوچز انتہائی کم ہیں


Staff Reporter March 25, 2014
کراچی میں دیگر شہروں کی نسبت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام فرسودہ ہوگیا،ترقی کرنی ہے تو ہمیں گھر سے باہر لازمی جانا پڑتا ہے،خواتین فوٹو: فائل

کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام فرسودہ ہونے کے باعث ملازمت پیشہ خواتین، طالبات اور گھریلو خواتین کو آمدورفت میں درپیش شدید مشکلات مستقل ذہنی تناؤ کا سبب بن رہی ہیں۔

کراچی جیسے عروس البلاد شہر میں گزشتہ15سال کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑی بسوں، منی بس اور کوچز کی تعداد انتہائی کم ہوگئی ہے اور ان کے متبادل کے طور پر خطرناک سواری چنگ چی نے لے لی ہے، ایکسپریس سروے کے مطابق کراچی سے ٹرام سروس، سرکلر ریلوے اور کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کا خاتمہ ہونے کے باعث اب 2 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں عوام کی اکثریت پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی ہے کا انحصار صرف8 ہزار ٹوٹی پھوٹی بوسیدہ بسوں اور 40 ہزار سے زائد خطر ناک چنگ چی رکشوں پر ہے جس سے خواتین کی اکثریت کو دورانِ سفر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کراچی میں8 ہزار بسیں، منی بسیں اور کوچز شہر کے100روٹس پر چل رہی ہیں، ان گاڑیوں میں خواتین کے لیے علیحدہ کمپارٹمنٹ ہوتا ہے، ہر کمپارٹمنٹ میں خواتین کے لیے8 سے10سیٹیں مختص ہوتی ہیں۔

ناؤ کمیونیٹیز آرگنائزیشن کے مطابق کراچی میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد 15سے18لاکھ ہے، کراچی ایک تجارتی حب ہے لیکن بد قسمتی سے کراچی میںملک کے دیگر شہروں کی نسبت پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی فرسودہ ہے، بیشتر خواتین کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن انھیں ٹرانسپورٹ کا نظام ناقص ہونے کے باعث شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اگر خواتین نے ترقی کرنی ہے توانھیں گھر سے باہر لازمی جانا پڑتا ہے لیکن ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث گھر والے بھی کافی اعتراض کرتے ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے شہریوں کے لیے سفر کو مشکل بنا دیا ہے، شہریوں کی بڑی تعداد اپنی گاڑیوں میں ایندھن بھروانے کے لیے روزانہ کئی گھنٹے ضائع کرتی ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، اس کے علاوہ سی این جی کی قلت کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ، ٹیکسیاں اور رکشے زیادہ تر پٹرول اور ڈیزل پر چلتے ہیں اور وہ شہریوں سے زائد کرائے وصول کرتے ہیں۔

ایکسپریس سروے کے دوران اس مسئلے کے حوالے سے مختلف ورکنگ و گھریلو خواتین سے گفتگو کی گئی تو دفتر میں ملازمت کرنیوالی خاتون عائشہ کا کہنا تھا کہ انھیں کافی دیر بس کا انتظار کرنے کے بعد مطلوبہ بس بہ مشکل ہی ملتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک سے زائد گاڑیوں کے ذریعے یا پھر رکشوں کا منہ مانگا کرایہ ادا کرنے کے بعد دفتر پہنچتی ہیں، وہ اکثر مقررہ وقت پر دفتر نہیں پہنچ پاتیں ہیں جس کے باعث دفتر کی انتظامیہ کی جانب سے ڈانٹ پڑتی ہے، گھریلو خاتون صبا کا کہنا تھا کہ جب اسے اپنے بچے کی تعلیم اور بیماری کے سلسلے میں گھر سے باہر جانا پڑتا ہے تو ٹرانسپورٹ کی قلت کے باعث وہ رکشا لینے کی کوشش کرتی ہیں، بغیر میٹر کے رکشا یا ٹیکسی ڈرائیور گیس کی بندش کا بہانہ بناتے ہوئے زائد کرایہ وصول کرتے ہیں۔