بلوچستان میں غریب محنت کشوں کا سفاکانہ قتل

بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے روٹین کا کرائم نہیں کہا جا سکتا


Editorial September 15, 2012
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں جمعرات کو دس غریب مزدوروں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ فوٹو: فائل

بلوچستان میں قتل و غارت کی کثیر الجہتی وارداتیں ہو رہی ہیں'کوئی واردات فرقہ واریت کا رنگ لیے ہوئے ہے تو کوئی نسلی اور لسانی نفرت کا شاخسانہ نظر آتی ہے۔

کہیں نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کیا جا رہا ہے اور کہیں مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں جمعرات کو دس غریب مزدوروں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔

اس خوں ریزی کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں' ان کے مطابق مقتولین سڑکیں بنانے والے مزدور تھے۔ علاقے کے تحصیلدار جاوید سمالانی کا جو بیان اخبارات میں آیا ہے اس کے مطابق صبح کے وقت یہ مزدور دشت کے علاقے عمرڈور کے مقام پر کام کر رہے تھے۔ اس دوران 2 موٹر سائیکل سواروں نے انھیں قطار میں کھڑا کیا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ موٹر سائیکل سوار قاتل باآسانی فرار ہو گئے۔

جاں بحق ہونے والوں کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سمنگلی سے بتایا جاتا ہے۔ ان کا تعلق میرانی اور علیزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ پشتونخوا میپ نے اس واردات کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر خضدار میں ایک قبائلی سردار میر سعید احمد قلندرانی اور ان کے پانچ ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا۔ دشت میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ یا دہشت گردی کی ذمے داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔

اس ہولناک واردات کا بھی حسب روایت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر قاتلوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے سانحہ دشت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

بلوچستان کے بارے میں یہ کہنا کہ اس صوبے کے حالات خاصے عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں' اب معمول بن گیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب یہاں قتل و غارت کی کوئی واردات نہ ہو۔ کسی صوبے میں عام نوعیت کے جرائم ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ ذاتی دشمنیوں میں لوگ مارے بھی جاتے ہیں۔ ڈاکو اور رہزن بھی واردات کے دوران شہریوں کو قتل کر دیتے ہیں۔

اس قسم کی وارداتیں حکومت کے لیے بدنامی کا باعث بھی ہوتی ہیں اور ایک چیلنج بھی۔ اس قسم کی وارداتوں کی روک تھام میں ناکامی پر حکومت پر تنقید بھی ہوتی ہے لیکن اسے رعایت بھی دی جا سکتی ہے لیکن بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے روٹین کا کرائم نہیں کہا جا سکتا۔

اس صوبے میں ایسے گروہ' گینگ اور تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن کا ایجنڈا سیاسی ہے اور وہ اس سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کر کے دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں حکومت کی رٹ نہیں ہے۔ بلوچستان میں آباد ہزارہ منگول برادری کے بیسیوں بے گناہ افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔ پنجابیوں کو بھی مارا گیا ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں بھی مل رہی ہیں۔ پشتون بھی قتل ہوئے ہیں۔

اس صورت حال میں قاتلوں کو کہیں گم کر دیا ہے۔ سیاستدان' لکھاری اور خود کو دانشور کہلانے والے کچھ لوگ سارا ملبہ سیکیورٹی اداروں پر ڈال کر صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بلوچستان کے قوم پرست الگ پریشان ہیں اور حکومت کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کیا جائے۔

چند روز بیشتر بلوچستان کے مسائل کے حل کے حوالے سے قائم وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے صوبے کی مختلف سیاسی قوم پرست اور مذہبی جماعتوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ وفاقی وزیر دفاع نوید قمر نے کہا تھا کہ یہ کمیٹی اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے آیندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔ اب وفاقی کابینہ کا اجلاس کب ہوگا' ان سفارشات کا کیا بنے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

جب جنرل پرویز مشرف برسراقتدار تھے' اس وقت بھی وفاقی حکومت کی شخصیات بلوچستان کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کرتے رہتے تھے۔ موجودہ حکومت نے بھی بلوچستان کے لیے کام کرنے کے دعوے کیے' آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے ایک پیکیج کا اعلان بھی ہوا۔ لیکن معاملات وہیں کے وہیں رہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ بلوچستان سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی میں بھی موجود ہیں' سینیٹ میں بھی ان کی نمایندگی موجود ہے اور بلوچستان کی اسمبلی بھی قائم ہے۔ اس کے باوجود بھی معاملات بہتری کی جانب نہیں جا رہے تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ بعض معاملات میں جان بوجھ کر کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کر کے معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے۔

جناب عطاء اللہ مینگل کے ساتھ مسلم لیگ ن کے رہنما میاں محمد نواز شریف ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ اسی طرح سردار خیر بخش کے ساتھ بھی ملاقات کی کوئی سبیل نکالی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں صدر آصف علی زرداری کو بھی متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ خود عطاء اللہ مینگل اور خیر بخش مری سے ملاقات کی کوئی راہ نکالیں۔ اکبر بگٹی کے خاندان کو بھی ان ملاقاتوں میں شامل کیا جائے۔

اس سلسلے میں سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے اثرورسوخ کو بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بلوچ سیاستدان بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر سب لوگ اپنی اپنی سیاسی مصلحتوں کی بنا پر ایک دوسرے کا تماشا دیکھتے رہیں گے تو پھر معاملات بگڑتے چلے جائیں گے۔ محض پنجاب کی مخالفت کرنا سیاست نہیں ہے۔

بلوچستان میں جو گروہ یا تنظیمیں سرگرم ہیں' وہ عام آدمی کی نظر سے تو اوجھل ہو سکتی ہیں لیکن خواص ان کے بارے میں لا علم نہیں ہیں۔ کون کس کا آلہ کار ہے' اس کے بارے میں بھی اوپر کے لوگوں کو سب علم ہے لیکن اس چپقلش' مفاد پرستی اور نا اہلی کا خمیازہ بلوچستان میں بسنے والا عام آدمی بھگت رہا ہے۔ بلوچستان کا بلوچ کسی کا دشمن نہیں ہے۔ بلوچستان کا پشتون بھی پرامن ہے۔

بلوچستان میں بسنے والی دیگر قومیتیں بھی کسی کی مخالف نہیں ہیں۔ ان حقائق کا ارباب اختیار کو بھی علم ہے۔ معاملہ اگر صوبائی حقوق کا ہے تو پھر 18 ویں ترمیم کیا ہوئی۔ 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد بھی اگر صوبائی حقوق کا معاملہ طے نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کے منتخب ارکان نے عقل و دانش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے' اسی طرح آج کے حالات میں بلوچستان پاکستان کی بقا اور ترقی کا زینہ ہے۔

وفاقی حکومت ہو یا قومی سطح کی سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما' مذہبی رہنما یا اسٹیبلشمنٹ' ان سب کو اپنے اپنے مفادات اور تعصبات سے بالاتر ہو کر جیو اور جینے دو کے اصول کو سامنے رکھ کر معاملات طے کرنے ہوں گے۔ اگر ایسا نہ کیا تو پھر وقت تو کسی کا دوست نہیں ہوتا۔