ملائیشین طیارے کا المناک ڈراپ سین

سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ مواد کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ آخری مرتبہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے مغرب میں تھا


Editorial March 25, 2014
سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ مواد کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ آخری مرتبہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے مغرب میں تھا. فوٹو:فائل

بالٓاخر ملائیشین ائیرلائن کے لاپتہ طیارے کے بارے میں ملائیشیا کے وزیراعظم محمد نجیب نے اعلان کردیا کہ طیارہ بھارت کے جنوبی حصے میں واقعہ سمندر میں گرکر تباہ ہوگیا ہے اور اس میں سوار تمام افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، باقاعدہ اعلامیے کے بعد مسافروں کے زندہ بچ جانے کی آس اور امید دم توڑگئی،لواحقین نے جو ضبط کے بند باندھ رکھے تھے وہ سب ٹوٹ گئے،آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے،ایک آہ وفغاںکا عالم تھا،طیارے میں سوار 239مسافروں میں سے 153چین کے باسی تھے۔ تمام تر جدید ٹیکنالوجی کے باوجود لاپتہ طیارے کے بارے میں کسی کو سترہ روز پتہ نہ چل سکا، ملائیشیا نے سرکاری طور پر پاکستان سمیت سترہ ممالک سے اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی تھی، ایک جانب تو لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین آس و امید کی صلیب پر گڑھے تھے تو دوسری جانب افواہوں اور قیاسی آرائیوں کا سلسلہ تھا جو عالمی میڈیا نے شروع کر رکھا تھا اور یہ کہیں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، ایک اسٹوری یہ بھی چلائی گئی کہ طیارے کو طالبان اغوا کرکے پاکستان یا افغانستان لے آئے ہیں اور طیارے کو اتار کر چھپا رکھاہے،تاکہ نائن الیون جیسا حملہ دوبارہ کیا جاسکے۔کسی نے خبرچھاپی اور نشر کی کہ پائلٹ کا تعلق انتہا پسندگروپ سے تھا۔

الغرض عالمی میڈیا قیاس آرائیوں کی آڑ میں نہ صرف اپنے مقاصد کی تکمیل میں لگا رہا بلکہ مسافروں کے لواحقین کے جذبات سے بھی کھیلتا رہا، قیاس آرائی کی آڑ میں جھوٹی الزام تراشی کا چلن انتہائی خراب اور دل شکن ہے اورصحافتی اصولوں کے خلاف بھی۔ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ مواد کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ آخری مرتبہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے مغرب میں تھا۔اس سے قبل ایک آسٹریلوی طیارے نے سمندر میں دو ایسی چیزیں دیکھی ہیں جن کا تعلق ملائیشیا کے لاپتہ بوئنگ سے ہوسکتا ہے اور ان اشیا کو ڈھونڈنے کے لیے بحری جہاز اس جگہ کے بہت قریب ہے، لیکن تازہ ترین خبر کے مطابق جوکہ کینبرا سے آئی ہے کہ آسٹریلیا نے بحرہند میں گرکر تباہ ہونے والے ملائیشین طیارے کے ملبے کی تلاش کا کام ایک بار پھر خراب موسم کی وجہ سے روک دیا ہے۔ آسٹریلین میری ٹائم حکام کے مطابق جنوبی بحرہند میں تباہ شدہ طیارے کے ملبے کی تلاش کا کام موسم بہتر ہوتے ہی بحال کردیا جائے گا۔ ادھر امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ طیارے کے ملبے کی جلد ازجلد تلاش کے لیے سمندر میں کام کرنے والے ڈرون بلیو فن آسٹریلیا بھیج رہا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق بلیو فن پندرہ ہزار فٹ تک سمندر کی گہرائی میں اترسکتا ہے،جو ڈوبے ہوئے ملائیشین طیارے کے ملبے اور بلیک باکس کو ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک جانب تو طیارے کے ملبے کی تلاش کے سلسلے میں یہ پیش رفت ہوئی ہے تو دوسری جانب بدقسمت طیارے کے مسافروں کے لواحقین نے نہ صرف ملائیشین حکام سے ثبوت مانگنے کا مطالبہ کیا، غم زدہ لواحقین کا کہنا ہے کہ نہ تو جہاز کا ابھی تک کوئی ملبہ ملا ہے، نہ بلیک باکس نہ کوئی اور نشانی، جب کہ چین اور آسٹریلیا کی طرف سیٹلائٹ پر جن مقامات کی نشاندہی ہوئی وہاں بھی ابھی تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکی ہے۔ لواحقین نے اسی موقف کی بنا پر بیجنگ میں ملائیشیا کے سفارتخانے کے سامنے بھرپور احتجاج کیا۔

چین کی حکومت نے بھی اس سلسلے میں خاصی ناراضگی اور غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ملائیشیا سے طیارے کے حوالے سے سارا سیٹلائٹ ڈیٹا مانگ لیا ہے، صورتحال ایک نازک موڑ اختیارکرتی جا رہی ہے گوکہ ائیرلائنز کے حکام نے بدقسمت پرواز ایم ایچ 370 کے متاثرہ خاندانوں کو پانچ ہزار ڈالر دینے کی پیش کش کی ہے،لیکن یہ رقم کسی بھی ایک انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہوسکتی،دوسری طرف ملائیشین حکومت نے طیارہ سانحے کے سلسلے میں سویلین تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔یہ ایک نازک وقت ہے،چین کو محاذآرائی کے بجائے صبروتحمل سے کام لیتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں فضائی حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوس ناک ہے، اس سلسلے میں عالمی سطح پر ایسی موثر تدابیر کو اختیار کیا جانا چاہیے جس سے حادثات سے مکمل طور پر محفوظ رہا جاسکے۔